واشنگٹن: امریکی محکمہ دفاع کے ایک سینئر ملٹری عہدیدار نے غزہ جنگ کی وجہ سے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ گذشتہ برس سات اکتوبر سے غزہ میں جاری جنگ کی وجہ سے احتجاجا امریکی وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے استعفے دیئے ہیں مگرکسی ملٹری انٹلیجنس افسر کا یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے۔سوشل میڈیا سائٹ ’’لنکڈن‘‘ پر پوسٹ کردہ ایک بیان میں فوجی انٹیلی جنس افسر ہیریسن من نے کہا کہ انہوں نے گذشتہ نومبر میں اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا تھا۔انہوں نے وضاحت کی کہ یہ غزہ میں اسرائیلی جنگ کے لیے امریکی حمایت اور فلسطینیوں کو پہنچنے والے نقصان کے نتیجے میں انہیں پہنچنے والی ذہنی اور نفسیاتی اذیت کا نتیجہ تھا۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ خوف نے انہیں چند ماہ تک استعفیٰ دینے کی وجوہات بتانے سے روک دیا۔ مجھے ڈر تھا کہ ہمارے پیشہ ورانہ معیارات کی خلاف ورزی کی جائے گی، میں ان اہلکاروں سے ڈرتا تھا جن کا میں احترام کرتا ہوں اور مجھے ڈر تھا کہ آپ کو دھوکہ دیا جائے گا۔ مان نے خط میں لکھا کہ مجھے یقین ہے کہ آپ میں سے کچھ لوگ اسے پڑھتے ہوئے عجیب محسوس کریں گے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ وہ شرمندہ اور خود کو مجرم محسوس کرتے ہیں کیونکہ انہوں نے اپنے ملک کی پالیسی کو نافذ کرنے میں مدد کی، جس کے بارے میں ان کے بقول فلسطینیوں کابڑے پیمانے پر قتل عام ہوا۔انہوں نے مزید کہا کہ کسی وقت جو بھی جواز ہو آپ یا تو ایسی پالیسی نافذ کرتے ہیں جس سے بچوں کو بڑے پیمانے پر بھوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے، یا آپ ایسا نہیں کرتے۔