غزہ کو ’انسانی تباہی‘ کے سب سے بڑے خطرہ کا سامنا : اقوام متحدہ

   

نیویارک : اقوام متحدہ کے سربراہ انتونیو گوٹیرس نے جمعہ کو خبردار کیا کہ غزہ ایک انتہائی بڑی انسانی تباہی کے خطرہ سے دوچار ہے کیونکہ اس کے جنوبی شہر رفح کے ارد گرد اسرائیلی فوجی کارروائیوں نے امدادی کارروائیوں کو روک دیا ہے۔ اس ہفتہ کے شروع میں، اسرائیل کے زمینی دستوں نے شہر کے مشرقی علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا، جس میں مصر اور غزہ کے درمیان رفح بارڈر کراسنگ کا فلسطینی حصہ بھی شامل ہے، لیکن وہ ابھی تک اس کے مرکزی علاقہ میں داخل نہیں ہوئے ہیں۔ اے ایف پی کے مطابق اس کے صحافیوں نے جمعہ کو شہر پر توپ خانے کے حملوں کو دیکھا، اسرائیلی فوج نے کہا کہ شہر کے مشرق میں کارروائیاں جاری ہیں۔ فوج نے کہا کہ رفح کراسنگ میں غزہ کی جانب فوجیوں نے قریبی لڑائی اور فضائی حملے کے دوران کئی دہشت گرد سیل ختم کر دیے۔ اس سے قبل قاہرہ میں کسی معاہدے تک پہنچے بغیر جنگ بندی مذاکرات ختم ہو گئے تھے۔ اقوام متحدہ کے ایک سینئر اہل کار نے کہا کہ اب امدادی کارروائیاں ناممکن ہو چکی ہیں۔ وسیع پیمانے پر بین الاقوامی مخالفت کے باوجود اسرائیلی فوجی منگل کو رفح کے مشرقی سیکٹر میں داخل ہوئی۔اسرائیل کا استدلال ہے کہ وہ عسکریت پسندوں کا پیچھا کر رہا ہے۔ امریکی صدر جو بائیڈن نے ایک انٹرویو میں اس عزم کا اظہار کیا کہ اگر جنوبی غزہ شہر میں مکمل طور پر حملہ کیا گیا تو اسرائیل کے لیے توپ خانے کے گولے اور دوسرے ہتھیاروں کی ترسیل منقطع کر د ی جائے گی۔ یہ پہلا موقع تھا جب بائیڈن نے اسرائیل کو رفح سے دور رہنے کی بار بار کی اپیلوں کے بعد اس کے لیے تین ارب ڈالر سالانہ کی امریکی فوجی امداد کا اپنی بات پر زور ڈالنے کے لیے حتمی استعمال کیا۔ ان کی انتظامیہ نے گزشتہ ہفتہ اسرائیل کے لیے 3500 بموں کی ترسیل روک دی تھی۔ جمعہ ہی کو اسرائیل نے کہا کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے رفح کے علاقے سے کی گئی گولہ باری کو روک دیا۔ عینی شاہدین نے مزید شمال میں غزہ شہر میں فضائی حملوں اور لڑائی کی اطلاع دی۔ اسرائیلی فوجیوں نے اس ہفتہ مشرقی رفح کے رہائشیوں کو انخلاء کا حکم دینے کے بعد مصر اور غزہ کے درمیان رفح کراسنگ کے فلسطینی حصے پر قبضہ کر کے اسے بند کر دیا، جس کے ذریعہ تمام ایندھن فلسطینی علاقہ میں جاتا ہے۔ اسرائیل نے کہا کہ فلسطینی سرزمین کے ساتھ اس کی جنوبی کراسنگ، کریم شالوم، کو چہارشنبہ کو دوبارہ کھول دیا گیا تھا۔ غزہ میں او وقت زیادہ تر امداد کریم شالوم کے ذریعہ داخل ہوتی ہے۔ تاہم مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اقوام متحدہ کے انسانی ہمدردی کے دفتر، (OCHA) کی سربراہ اینڈریا ڈی ڈومینیکو نے کہا کہ کریم شالوم کے ذریعہ امداد کا داخلہ بدستور بہت مشکل ہے۔
انہوں نے جمعرات کو اے ایف پی کو بتایا کہ آپریشن جاری رکھنے کے لیے غزہ میں روزانہ 2 لاکھ لٹر ایندھن کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہہم نے تمام انسانی امداد کے لیے مرکزی داخلی مقام کھو دیا ہے۔ ان کے اس بیان کے بعد، فلسطینی شہری امور کی نگرانی کرنے والے اسرائیلی وزارت دفاع کے ادارہ، COGAT نے، غزہ پٹی میں بین الاقوامی تنظیموں کو 2 لاکھ لیٹر (52,834 گیلن) فیول کی منتقلی” کا اعلان کیا ہے۔