غیر قانونی تعمیرات کی جانچ کرنے شمس آباد میونسپل کمشنر کو ہائی کورٹ کی ہدایت

   


حیدرآباد :۔ تلنگانہ ہائی کورٹ نے کل شمس آباد میونسپل کمشنر کو ہدایت دی کہ شمس آباد میں سروے نمبر 208 کا معائنہ کیا جائے اور اس بات کی جانچ کی جائے کہ آیا اس علاقہ میں کوئی غیر قانونی عمارتوں کی تعمیر کی جارہی ہے ۔ چیف جسٹس راگھویندرا سنگھ چوہان اور جسٹس بی وجئے سین ریڈی پر مشتمل ایک بنچ نے اس مسئلہ پر 4 جنوری تک کمشنر سے رپورٹ طلب کی ۔ انڈیا فیلو شپ سوسائٹی کے جی جئے پال کی جانب سے داخل کی گئی مفاد عامہ درخواست پر ان ججس نے یہ ہدایت دی جس میں درخواست گذار نے الزام عائد کیا کہ عہدیدار حالانکہ انہیں اس اراضی پر بلڈنگس کی تعمیرات کے بارے میں پہلے سے علم ہونے کے باوجود خاموش رہے اور کوئی کارروائی نہیں کی ۔ درخواست گذار کے مطابق دو اشخاص شمس آباد ٹاون میں 5.12 ایکڑ عوامی جگہ پر تعمیرات کررہے ہیں اور وہاں بلڈنگس بنانا شروع کردیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ’میونسپلٹی کو بلڈنگس پلانس اور پرمیشنس دینا چاہئے اگر کوئی درخواست گذار تعمیرات کے لیے اجازت طلب کرنے آتا تو عہدیداروں کو یہ معلوم ہوجاتا تھا کہ یہ غیر قانونی قبضہ ہے اور وہاں کسی عمارت کی تعمیر کی اجازت نہیں دی جاتی ۔ مسٹر پال نے کہا کہ ’ اگر غیر قانونی قبضہ کرنے والوں کی جانب سے کوئی بلڈنگ پرمیشن طلب کئے بغیر ہی تعمیرات کی جارہی ہوں تو بھی یہ غیر قانونی ہے ۔ اس لیے میونسپل عہدیداروں کا اس طرح کی جانے والی تعمیرات کے بارے میں واقف نہ ہونے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا ‘ ۔ انہوں نے کہا کہ تعمیراتی کام کھلے طور پر ہونے پر بھی عہدیدار خاموش رہے ۔ درخواست گذارنے کہا کہ ’ ہم نے اس سال 6 نومبر کو میونسپل عہدیداروں سے نمائندگی کرتے ہوئے غیر قانونی تعمیرات کے بارے میں انہیں واقف کروایا تھا لیکن اس سلسلہ میں تاحال کوئی کارروائی نہیں کی گئی ۔ انہوں نے کہا کہ یہ تلنگانہ میونسپلٹیز ایکٹ 2019 کے قواعد کی خلاف ورزی میں ہے اور غیر قانونی تعمیرات کرنے پر دو اشخاص کے خلاف کارروائی پر زور دیا ۔ ججس نے محکمہ بلدی نظم و نسق کے پرنسپل سکریٹری ، میونسپل کمشنر شمس آباد میونسپلٹی اور مبینہ خلاف ورزی کرنے والوں کو بھی ، جن کے نام درخواست میں دئیے گئے ہیں ۔ نوٹسیس جاری کئے ۔۔