غیر ملکی طلبہ کی کمی سے کئی برطانوی یونیورسٹیاں خطرے میں

   

حکومت سے اعلیٰ تعلیم کیلئے برطانیہ آنے والے غیر ملکی طلباء و طالبات کی تعداد کو مزید محدود کردینے والے اقدامات سے گریز کرنے کا مطالبہ

لندن : برطانیہ میں بیرونی ممالک سے آنے والے بین الاقوامی طلبہ کی تعداد میں کمی ملکی یونیورسٹیوں کے لیے خطرہ بنتی جا رہی ہے اور ایسے کچھ اعلیٰ تعلیمی ادارے تو اس وجہ سے تنزلی اور ناکامی کا شکار بھی ہو سکتے ہیں۔ برطانوی دارالحکومت لندن سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق یہ تنبیہ ماہرین کی ایک ایسی تازہ رپورٹ میں کی گئی ہے، جو لندن حکومت کے ایما پر تیار کی گئی۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ برطانیہ میں اگلے تعلیمی سال سے حصول تعلیم کے لیے جن غیر ملکی طلبہ نے اپنی رجسٹریشن کرائی ہے، ان کی تعداد میں گزشتہ تعلیمی سال کے مقابلے میں واضح کمی ہوئی ہے۔ اس پس منظر میں اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ برطانوی یونیورسٹیوں کی بین الاقوامی ساکھ کے تسلسل اور ایسے کئی اداروں کی تنزلی سے بچنے کے لیے لازمی ہے کہ حکومت اعلیٰ تعلیم کے لیے برطانیہ آنے والے غیر ملکی طلبا و طالبات کی تعداد کو محدود کر دینے والے مزید کوئی اقدامات نہ کرے۔ دنیا بھر کے مختلف ممالک سے باوسائل افراد کے اعلیٰ تعلیم کے لیے برطانیہ کا رخ کرنے کی بین الاقوامی روایت مدتوں پرانی ہے۔ اس عمل کو وزیر اعظم رشی سوناک کی قیادت میں موجودہ ملکی حکومت کی طرف سے کیے گئے اقدامات سے نقصان پہنچا ہے۔ مثال کے طور پر رشی سوناک کی حکومت نے طبی دیکھ بھال کرنے والے کارکنوں اور کم تنخواہ والے ورکرز کے روزگار کے لیے برطانیہ آنے کے رجحان کی حوصلہ شکنی کرنے کے ساتھ ساتھ اب یہ امر بھی مشکل بنا دیا ہے کہ دیگر ممالک سے پوسٹ گریجویشن کے لیے برطانیہ آنے والے طلبا و طالبات اپنے اہل خانہ کو بھی ساتھ لا سکیں۔ دنیا کی چند مشہور ترین یونیورسٹیاں برطانیہ میں ہیں، جن میں آکسفورڈ اور کیمبرج بھی شامل ہیں اور امپیریل کالج لندن جیسے عالمی سطح پر شہرت یافتہ ادارے بھی۔ بین الاقوامی سطح پر کامیاب بڑی بڑی کاروباری شخصیات کے بقول یہ برطانوی تعلیمی ادارے جدت اور تخلیقی عمل کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور اپنے طلبہ کو ایک طرح کی ‘سافٹ پاور‘ مہیا کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی دنیا کے کئی ممالک کے بہت سے رہنما ایسے ہی اعلیٰ برطانوی اداروں کے تعلیم یافتہ ہیں۔ برطانوی حکومت کے لیے یہ رپورٹ مائیگریشن ایڈوائزری کمیٹی نامی اس ادارے نے تیار کی ہے، جو ایک غیر جانبدار ادارے کے طور پر لندن حکومت کی مشاورت کرتا ہے۔ مائیگریشن ایڈوائزری کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ اس سال ستمبر میں برطانوی یونیورسٹیوں میں اپنی اعلیٰ تعلیم شروع کرنے کے لیے رقوم جمع کرانے والے انٹرنیشنل پوسٹ گریجویٹ طلبا و طالبات کی تعداد گزشتہ برس کے مقابلے میں 63 فیصد کم ہو گئی ہے۔ اس کی وجہ زیادہ تر برطانوی حکومت کی طرف سے تعلیمی ویزوں پر لگائی جانے والی نئی پابندیاں اور شرائط بنیں۔ برطانیہ میں غیر ملکی طلبہ کو حصول تعلیم کے بعد دو سال تک وہاں کام کرنے کی اجازت بھی دے دی جاتی ہے۔ اس طریقہ کار کو گریجویٹ روٹ کہتے ہیں۔ مائیگریشن ایڈوائزری کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ حکومت کی طرف سے گریجویٹ روٹ پر لگائی جانے والی مزید پابندیوں سے نہ صرف روزگار کے مواقع ختم ہو جائیں گے اور کئی تعلیمی کورس بند کرنا پڑیں گے بلکہ اس طرح چند تعلیمی اداروں کی ناکامی کا خطرہ بھی پیدا ہو جائے گا۔