غیر منظورہ لے آؤٹس کو باقاعدہ بنانے کی اسکیم عوام کیلئے باعث زحمت

,

   

بھاری فیس کی ادائیگی ممکن نہیں، پلاٹس اور فلیٹس کے کاروبار کوسیاستدانوں کو سرپرستی، پرانے شہر میں اُلجھن
حیدرآباد۔ حکومت نے غیر منظورہ لے آؤٹس پر اراضیات اور پلاٹس کو باقاعدہ بنانے کی اسکیم کا اعلان تو کیا ہے لیکن یہ اسکیم عام شہریوں کیلئے راحت کے بجائے زحمت اور بوجھ بن چکی ہے۔ حکومت نے غیر مجاز لے آؤٹس اور پلاٹس کو باقاعدہ بنانے کیلئے جو شرائط اور فیس مقرر کی ہے وہ عام شہری کی دسترس سے باہر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسکیم کے آغاز سے لے کر آج تک ریاست بھر میں درخواستوں کے ادخال کی صورتحال حوصلہ افزاء نہیں ہے۔ کارپوریشنوں، گرام پنچایتوں اور میونسپلٹیز میں تاحال 70,193 درخواستیں داخل کی گئیں جس کے تحت سرکاری خزانہ میں 7 کروڑ 12 لاکھ روپئے جمع کئے گئے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کارپوریشن کے مقابلہ گرام پنچایت اور میونسپلٹیز میں درخواستوں کی تعداد زیادہ ہے ۔ گریٹر حیدرآباد اور دیگر کارپوریشنوں میں 16912 درخواستیں داخل کی گئیں اور ایک کروڑ 70 لاکھ 29 ہزار روپئے بطور فیس جمع کئے گئے۔ حالانکہ صرف حیدرآباد میں اگر حکومت کی جانب سے رعایتی شرحوں پر ریگولائزیشن کا کام انجام دیا جاتا تو درخواستوں کی تعداد ایک لاکھ سے زائد ہوسکتی تھی۔ زائد فیس اور دیگر شرائط کی تکمیل سے قاصر عوام اسکیم سے استفادہ کے سلسلہ میں دشواریوں کا سامنا کررہے ہیں۔ گرام پنچایتوں میں 22,928 اور میونسپلٹیز میں 30,353 درخواستیں داخل کی گئیں۔ ریگولائزیشن اسکیم سے استفادہ نہ کرنے کی صورت میں عوام برقی اور آبرسانی کے کنکشن سے محروم ہوسکتے ہیں اور ان کے پلاٹ کا رجسٹریشن نہیں ہوپائے گا۔

حیدرآباد کے پرانے شہر اور مضافاتی علاقوں میں غیر منظورہ لے آؤٹس کے تحت اراضیات کا کاروبار عروج پر ہے۔ اس کے علاوہ کئی رئیل اسٹیٹ تاجرین نے لے آؤٹس کی منظوری کے بغیر ہی 5 یا 6 منزلوں تک تعمیر کرتے ہوئے فلیٹس کی فروخت کا آغاز کردیا ہے۔ حکومت کی جانب سے غیر مجاز لے آؤٹس کے رجسٹریشن روک دینے کے بعد پلاٹس اور فلیٹس کا کاروبار بری طرح متاثر ہوا ہے۔ عوام رئیل اسٹیٹ تاجرین سے فلیٹس کی خریدی سے انکار کررہے ہیں تاوقتیکہ ان کا لے آؤٹ منظور نہ ہوجائے۔ جن افراد نے حالیہ دنوں میں اراضی اور فلیٹس کی معاملت کی ہے وہ رقم کی واپسی کیلئے اصرار کر رہے ہیں۔ پرانے شہر کے مختلف علاقوں میں اراضیات کی مارکٹ ویلیو مختلف ہے۔ اگر یوں کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ مسلم آبادی والے علاقوں میں مارکٹ ویلیو زیادہ ہے جو متوسط طبقات کی بس سے باہر ہے۔ سیاستدانوں کی سرپرستی میں اراضیات اور فلیٹس کا کاروبار کیا جارہا ہے لیکن مصیبت کی گھڑی میں کوئی بھی سیاستداں عوام کی مدد کیلئے دستیاب نہیں رہتا۔ بتایا جاتا ہے کہ ٹولی چوکی کے علاقہ میں اراضی کی مالیت تقریباً 18 تا20 ہزار روپئے مربع گز ہے جبکہ لنگم پلی اور دیگر علاقوں میں ڈھائی تا تین ہزار روپئے گز اراضی کی مالیت ہے۔ایسے میں مسلم آبادی والے علاقوں میں 18 تا20 ہزار روپئے کی ادائیگی عوام کیلئے کسی بوجھ سے کم نہیں ہے۔ غیر منظورہ لے آؤٹس کے علاوہ مسلم علاقوں میں اراضیات اور مکانات زیادہ تر نوٹرائزڈ ڈاکیومنٹس پر مبنی ہیں۔ اسمبلی میں نئے ریونیو قانون پر مباحث کے دوران جب اپوزیشن نے نوٹرائز اور غیر مجاز لے آؤٹس کو رعایتی شرحوں پر ریگولرائز کرنے کی تجویز پیش کی تو اس پر چیف منسٹر نے کسی ردعمل کا اظہار نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اعلان کردہ اسکیم کے مطابق ہی ریگولرائزیشن کا کام انجام دیا جائے گا۔ عوام حکومت کی نئی اسکیم سے اس لئے بھی خوفزدہ ہیں کیونکہ دوبارہ فروخت کی صورت میں انہیں مالیت کے مطابق رقم حاصل نہیں ہوگی۔