پیرس/ کاراکس / نیویارک : 1 پینتھیون سوربون یونیورسٹی کے طلباء نے غزہ میں اسرائیلی حملوں اور نسل کشی بند کرنے” کا مطالبہ کرتے ہوئے اپنے کیمپس میں احتجاج شروع کردیا ہے۔فرانس کے دارالحکومت پیرس کے 13 مختلف علاقوں میں واقع “ٹولبیاک” کے نام سے مشہور پیرس 1 پینتھیون سوربون یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلباء ، غزہ میں اسرائیل کے حملوں پر ردعمل ظاہر کرنے کے لیے کیمپس میں جمع ہوئے ہیں۔طلباء کا کہنا تھا کہ “ہم یہاں فلسطین اور ہلاک ہونے والوں کی یاد میں یہاں جمع ہوئے ہیں چاہے اس سے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون اس سے اتفاق نہ کریں ۔ انہوں نے کیمپس میں نعرے لگائے اور کیمپس میں فلسطینی پرچم بلند کیے۔وینزویلا میں یونیورسٹی کے طلباء جمع ہوئے اور غزہ پر اسرائیل کے حملوں پر ردعمل ظاہر کرنے کے لیے مارچ کا اہتمام کیا۔سینکڑوں طلباء نے فلسطینی اور وینزویلا کے پرچم اٹھائے دارالحکومت کراکس کی سب سے بڑی سڑک پر مارچ کیا۔غزہ میں اسرائیل کے جاری حملوں پر احتجاج کرنے والے طلباء گروپوں نے فلسطین کی آزادی کا مطالبہ کیا۔دریں اثنا، نیویارک پولیس ڈپارٹمنٹ (NYPD) کے خصوصی یونٹوں نے جو نیویارک، امریکہ میں کولمبیا یونیورسٹی کے کیمپس میں گئے، نے فلسطینی حامی طلباء کو حراست میں لے لیا جنہوں نے تاریخی ہیملٹن ہال میں اپنا احتجاج جاری رکھا ہوا ہے۔غزہ سولیڈیریٹی کیمپ جو کچھ عرصہ قبل کولمبیا یونیورسٹی کے مارننگ سائیڈ ہائٹس کیمپس میں طلباء نے قائم کیا تھا، پولیس ٹیموں کی مداخلت سے منتشر کردیا گیا ہے۔