شاہی مسجد باغ عام میں مولانا ڈاکٹر احسن بن محمد الحمومی کا خطاب
حیدرآباد، 12/ نومبر (پریس نوٹ) امام و خطیب شاہی مسجد مولانا ڈاکٹر احسن بن محمد الحمومی نے کہا کہ دکن کی سرزمین کئی اولیا اللہ کا مرکز ہے۔ حضرت پیران پیر شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کے مرید حضرت شہاب الدین سہروردیؒ کے مرید حضرت بابا شرف الدینؒ کی برسوں قبل یہاں آمد ہوئی۔ دکن کے اولیا کرام میں ایک اہم شخصیت حضرت ابو الحسنات محدث دکن عبداللہ شاہؒ کی تھی۔ دکن میں شائد ہی کوئی مسلمان ہو جو حضرت عبداللہ شاہؒ کا نام نہ سنا ہو۔ آپؒ نے دکن میں اصلاح و تربیت کا بے مثال کام کیا۔ حضرت عبداللہ شاہؒ بیک وقت صوفی، مصلح اور داعی بھی تھے۔ وہیں آپ بلند پایہ محدث و فقیہ بھی تھے۔ حضرت عبداللہ شاہؒ کا وہی دور ہے؛ جب خلافت عثمانیہ روبہ زوال تھی۔ آج غزہ کی جو حالت ہے، صہیونیوں کی جانب سے اس کی منصوبہ بندی خلافت عثمانیہ کے زوال کے وقت ہی کی گئی تھی کہ مسلمان جب تک متحد رہیں گے، تب تک بیت المقدس پر قبضہ نہیں کیا جاسکتا۔ اس کیلئے عالم گیر سطح پر مسلمانوں کے خلاف دو کام کیے گئے۔ پہلا تصوف کے خلاف بڑے پیمانے پر تحریک چلائی گئی۔ جس کا نام ’وہابیت‘ ہے۔ یہ تحریک اصلاً خلافت عثمانیہ کو جڑ سے اکھاڑ پھیکنے کیلئے وجود میں لائی گئی تھی۔ اہل تصوف کو بدنام کیا گیا۔ دوسرا کام فقہ حنفی کے رد میں کیا گیا۔ خلافت عثمانیہ تین براعظم ایشیا، افریقہ اور یورپ تک پھیلی ہوئی تھی۔ جہاں کی عدالتوں میں فقہ حنفی رائج تھا۔ مولانا احسن نے تلنگانہ سمیت دیگر ریاستوں میں اسمبلی انتخابات کے ضمن میں کہا کہ ہندوستان میں بیس کروڑ مسلمان ہیں، یہ آبادی کئی ملکوں کی آبادی کے برابر ہے۔ ہندوستان جمہوری ملک ہے۔ یہاں ووٹ کی بے پناہ طاقت ہے۔ ہندوستان میں الیکشن ایک ایسا نایاب موقع ہے کہ مسلمان اپنی عددی طاقت کا مظاہرہ کریں، یہ صرف اور صرف صحیح امیدوار کے حق میں ووٹ کے استعمال سے ہی ممکن ہے۔ جب کہ تقریبا صرف 60 فیصد مسلمانوں کے پاس ہی ووٹر آئی ڈی کارڈ ہے۔ ہندوستان میں 13 کروڑ مسلمان ووٹ ڈالنے کے لائق ہیں۔ جب کہ ان میں صرف 6.5 کروڑ مسلمانوں کے پاس ہی ووٹر آئی ڈی ہے۔ جب کہ مسلمانوں کا 40 فیصد ہی ووٹنگ فیصد ہے۔ اس حساب سے 3 کروڑ مسلمان ہی ووٹ ڈالتے ہیں اور وہ بھی غیر منظم انداز میں ووٹ ڈالتے ہیں۔ ہندوستان میں آج تک مسلمانوں نے اپنے آپ کو سیاسی طور پر باشعور اور موثر بنا کر پیش نہیں کیا۔ جب کہ ایک فیصد آبادی پورے ہندوستان میں سیاسی راج کررہی ہے۔ کیونکہ ان کا سیاسی شعور بلند ہے۔ مولانا نے اپیل کی الیکشن کے دن چھٹی نہ منائیں۔ ایک دن کی غفلت آنے والے پانچ سال کیلئے وبال جان بن سکتی ہے۔ اپنے محلے کے مسلم ووٹوں کو بااثر بنانے کی کوشش کی جائے۔ تمام کے تمام ووٹ کا صحیح استعمال کیا جائے۔