فلسطینیوں کے گھروں کی دوبارہ تعمیر ، 15 سالہ نوجوان نے پونجی چندہ میں دیدی

   

یروشلم: فلسطین میں تقریباً ایک سال قبل 15 سالہ مصعب عبدالحق نے ایک نئی الیکٹرک بائیک خریدنے کے لیے اپنا یومیہ الاؤنس بچا لیا تھا تاکہ نیا تعلیمی سال شروع ہو تو اسے آنے جانے میں مدد مل سکے ۔ تاہم اسرائیل مخالف کارروائیاں کرنے والے فلسطینیوں کے گھروں کی دوبارہ تعمیر نو کے حوالے سے چندے کی آواز اٹھی تو اس نے اپنی ساری جمع پونچی اس فنڈ میں جمع کرا دی۔ فلسطینیوں کے مشکل معاشی حالات کے باوجود صرف چند دنوں کے اندر نصف ملین شیکل (تقریباً 140,000 ڈالر) جمع کئے گئے اور اس رقسم سے دو نئے مکانات کی خریداری کے لیے مالی اعانت فراہم کردی گئی۔ فلسطینیوں کے درمیان شروع ہونے والی اس نئی مہم سے متاثرہ خاندانوں کو یقین دہانی کے پیغامات بھیجے گئے اور ان کی ضرورت کی ہر چیز فراہم کرنے میں مدد کرنے کے عزم کا اظہار کیا گیا ہے ۔ مغربی کنارے کے سب سے بڑے فلسطینی شہر نابلس سے شروع کی گئی اس مہم کا مقصد دو اسیران کمال جوری اور اسامہ التاویل کے خاندانوں کی کفالت کے لیے مالی عطیات کی سب سے بڑی رقم جمع کرنا ہے ۔ ان پر اسرائیل نے الزام لگایا ہے کہ یہ دونوں شہر کے مغرب میں واقع “شیوی شمرون” کی بستی کے قریب گزشتہ سال ایک فوجی کو ہلاک کرنے کا واقعہ میں ملوث تھے ۔ نابلس کی طرح دیگر شہروں نے بھی مسمار کیے گئے مکانات کے مالکان کی حمایت کے لیے اسی طرح کی مہم شروع کردی اور مہم کو بڑے پیمانے پر عوامی حمایت حاصل ہوئی ہے ۔اسرائیلی حکومت نے 2005 اور 2014 کے درمیان رکے رہنے کے بعد 2015 میں تعزیری مقاصد کے لیے فلسطینیوں کے گھروں کو مسمار کرنے کی پالیسی دوبارہ شروع کردی تھی۔ انسانی حقوق کی اسرائیلی مرکز ‘‘ بیتسیلم’’ کے مطابق جون 2014 میں ان فلسطینیوں کے گھروں کو مسمار کیا گیا تھا جنہوں نے الخلیل شہر میں تین یہودی آباد کاروں کو اغوا کیا تھا۔ مرکز کے مطابق مکانات کو مسمار کرنا ایک انتظامی طریقہ کار ہے جو 1945 میں برطانوی مینڈیٹ کی طرف سے جاری کردہ “ایمرجنسی ڈیفنس ریگولیشنز آف 1945” کے آرٹیکل 119 کی بنیاد پرلاگو کیا جاتا ہے ۔ بغیر کسی مقدمہ اور ثبوت کے گھروں کو مسمار کردیا جاتا ہے ۔