منی لانڈرنگ قانون کے تحت انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ کی کارروائی پر اعتراض
حیدرآباد۔/17 اگسٹ، ( سیاست نیوز) صحافی رعنا ایوب نے انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ کی جانب سے فنڈز ضبط کرنے کے اقدام کو چیلنج کرتے ہوئے دہلی ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔ رعنا ایوب نے اپنی درخواست میں دعویٰ کیا کہ 180 دن گزرنے کے بعد عبوری طور پر ضبطی کی میعاد مکمل ہوچکی ہے باوجود اس کے تحقیقاتی ایجنسی نے منی لانڈرنگ ایکٹ 2002 کو برقرار رکھا ہے۔ رعنا ایوب اپنی ویب سائیٹ پر فلاحی کاموں کیلئے وصول کئے جانے والے فنڈز کے بیجا استعمال کے الزامات کا سامنا کررہی ہیں۔ انہیں انسداد منی لانڈرنگ ایکٹ 2002 کے تحت تحقیقات کا سامنا ہے۔ انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ نے فروری میں کارروائی کرتے ہوئے رعنا ایوب کے 1.77 کروڑ مالیتی اثاثہ جات کو ضبط کرلیا تھا۔ انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ کا دعویٰ تھا کہ یہ رقم عطیات کے ذریعہ وصول ہوئی ہے اور تحقیقات میں اسے شامل کیا گیا۔ انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ کے مطابق چیاریٹی کے نام پر منصوبہ بند طریقہ سے فنڈز اکٹھا کئے گئے لیکن انہیں جس مقصد کے لئے وصول کیا گیا وہاں استعمال نہیں کیا گیا۔ ای ڈی نے الزام عائد کیا کہ رعنا ایوب نے ایک علحدہ کرنٹ بینک اکاؤنٹ کھول کر کچھ فنڈز منتقل کئے۔ اس کے علاوہ 50 لاکھ روپئے فکسڈ ڈپازٹ کئے۔ کٹوویب سائیٹ کے ذریعہ ریلیف کے کاموں کے ضمن میں یہ فنڈز حاصل کئے گئے تھے۔ دہلی ہائی کورٹ نے اپریل میں صحافی رعنا ایوب کو بعض شرائط کے ساتھ بیرونی دورہ کی اجازت دی تھی۔ انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ نے بیرونی دورہ پر پابندی عائد کردی تھی جہاں انہیں صحافیوں کے بین الاقوامی مرکزمیں تقریر کرنی تھی۔ قبل ازیں ممبئی ایر پورٹ پر رعنا ایوب کو برطانیہ جانے سے روک دیا گیا جب وہ طیارہ میں سوار ہونے والی تھیں۔ر