فہرست رائے دہندگان میں موجود خامیوں کو فوری دور نہ کرنے سے انتخابی صورتحال میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی

   

بعض حلقوں میں رائے دہندوں کے ایک سے زائد اندراج، امجد اللہ خان خالد کی بھی شکایت، تلبیس شخصی سے انتخابی عمل متاثر ہونے کا امکان
حیدرآباد۔14جنوری(سیاست نیوز) فہرست رائے دہندگان میں موجود خامیوں کو دور کرنے کے سلسلہ میں فوری طور پر اقدامات نہ کئے جانے کی صورت میں انتخابی صورتحال میں کوئی تبدیلی رونما نہیں ہوگی اور نہ ہی ایک سے زائد مقامات پر جن رائے دہندوں کے نام موجود ہیں ان کو حذف کرنے کے سلسلہ میں کئے جانے والے اقدامات میں کوئی کامیابی حاصل ہوگی۔ انتخابات کے عمل میں فہرست رائے دہندگان کو شفاف بنانا انتہائی اہمیت کا حامل ہے لیکن گذشتہ کئی برسوں سے ریاست تلنگانہ کے بیشتر حلقہ جات اسمبلی میں فہرست رائے دہندگان میں پائی جانے والی خامیوں اور نقائص کی نشاندہی کے باوجود انہیں دور کرنے کے اقدامات نہ ہونے کے سبب عوام میں رائے دہی کے عمل کے متعلق بے اعتنائی پیدا ہونے لگی ہے۔ چیف الکٹورل آفیسر تلنگانہ کی جانب سے فہرست رائے دہندگان میں موجود نقائص کو دور کرنے کے اقدامات کے باوجود کئی حلقہ جات اسمبلی میں نہ صرف مرحومین کے نام فہرست رائے دہندگان میں شامل ہیں بلکہ اپنے گھر منتقل کرنے والوں کے نام بھی انہی مکانات پر برقرار رہتے ہیں جس کے نتیجہ میں رائے دہندہ کو بھی اس بات کا علم نہیں ہوتا کہ اس کا ووٹ دو مقامات پر درج ہے ۔صحت مند جمہوریت کے لئے شفاف انتخابات ضروری ہیں جبکہ شفاف انتخابات کے لئے نقائص سے پاک فہرست رائے دہندگان کی تیاری انتہائی اہمیت کی حامل ہے لیکن ریاست بالخصوص شہر حیدرآباد کے کئی حلقہ جات اسمبلی ایسے ہیں جن میں نہ صرف مقامی رائے دہندوں کے ایک سے زائد ووٹ درج ہیں بلکہ پڑوسی ریاستوں سے تعلق رکھنے والی خواتین کی بڑی تعداد کو بہ حیثیت رائے دہندہ اندراج کروایا گیا ہے جو کہ انتخابات سے عین قبل شہرپہنچتے ہیں اور رائے دہی کے بعد واپس ہوجاتے ہیں۔ فہرست رائے دہندگان میں فرضی ناموں کے علاوہ دوہرے ناموں کی موجودگی کی کئی شکایات حلقہ اسمبلی سے شکست خوردہ امیدوار فیروز خان نے نہ صرف چیف الکٹورل آفیسر کے پاس درج کروائی ہیں بلکہ الیکشن کمیشن آف انڈیا کو بھی اس سلسلہ میں نمائندگیاں روانہ کی گئی ہیں۔ اسی طرح جناب امجداللہ خان مجلس بچاؤ تحریک نے بھی کئی شکایات درج کروانے کے بعد اب فہرست رائے دہندگان کو شفاف بنانے کے لئے عملی اقدامات کا آغاز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ فہرست رائے دہندگان میں ناموں کی شمولیت کے طریقہ کار کو بہتر بنانے کے لئے لازمی طور پر رائے دہندوں کی فزیکل تصدیق کروائی جانی چاہئے ۔ انہو ںنے مزید کہا کہ وہ جلد ہی چیف الکٹورل آفیسر اور الیکشن کمیشن آف انڈیا کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے اب تک فہرست رائے دہندگان میں ناموں کی شمولیت کو یقینی بنانے والے عہدیداروں کی نشاندہی کی جائے جنہوں نے اپنی ذمہ داری میں لاپرواہی کرتے ہوئے ہزاروں ناموں کی شمولیت کو یقینی بنایا ہے۔ فہرست رائے دہندگان میں نام کے اندراج اور ووٹر شناختی کارڈ کو آدھار کارڈ سے مربوط کرنے کے عمل کو بھی سیاسی دباؤ کے تحت سست کرنے کے اقدامات کئے جانے کی شکایت موصول ہورہی ہیں اور کہا جار ہاہے کہ شہر حیدرآباد میں فہرست رائے دہندگان کی تیاری کے ذمہ دار ادارہ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے فہرست رائے دہندگان میں موجود خامیوں کو دور کرنے کے بجائے اس مسئلہ پر خاموشی اختیار کی جا رہی ہے اور شکایات کو نظر انداز کیا جارہا ہے جو کہ انتخابات کے عمل کو شفاف بنانے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔3
ریونت ریڈی اپنی مرضی سے کام نہیں کرسکتے،
بی جے پی لیڈر این وی ایس ایس پربھاکر کا بیان
حیدرآباد 14 جنوری (سیاست نیوز) تلنگانہ بی جے پی کے نائب صدر این وی ایس ایس پربھاکر نے تنقید کی کہ چیف منسٹر ریونت ریڈی اپنی مرضی سے کام نہیں کرسکتے۔ وہ کانگریس ہائی کمان سے حکومت چلانے کے لئے ہدایات حاصل کرنے دہلی جانے کے لئے مجبور ہیں۔ پہلے کے چیف منسٹر اپنے فارم ہاؤز سے حکومت چلایا کرتے تھے اور موجودہ چیف منسٹر کا انحصار دہلی میں پارٹی قیادت پر ہے۔