حیدرآباد 5 مئی (سیاست نیوز) تلنگانہ ہائیکورٹ نے حکومت کو ہدایت دی ہے کہ خانگی انجینئرنگ کالجس کے فیس ری ایمبرسمنٹ بقایہ جات کی اجرائی کے لئے تاریخ کا تعین کریں اور تفصیلات سے ہائیکورٹ کو واقف کرایا جائے۔ خانگی انجینئرنگ کالجس کی جانب سے داخل کی گئی درخواست کی سماعت کرتے ہوئے جسٹس جے سری دیوی نے حکومت سے وضاحت طلب کی کہ فیس ری ایمبرسمنٹ بقایہ جات کی اجرائی میں تاخیر کی کیا وجوہات ہیں۔ جسٹس سری دیوی نے حکومت کو تفصیلی جوابی حلفنامہ داخل کرنے کی آخری مہلت دیتے ہوئے کہاکہ حلفنامہ میں بقایہ جات کی اجرائی کی مدت کا تعین کیا جائے۔ حکومت نے 29 اپریل کو جی او نمبر 7 جاری کیا جس کے تحت فیس ری ایمبرسمنٹ اسکیم کے لئے نئے گائیڈ لائنس جاری کئے گئے۔ عدالت نے آئندہ سماعت تک حکومت کو جوابی حلفنامہ داخل کرنے کی ہدایت دی اور کہاکہ جولائی میں تعلیمی سال 2026-27ء کا آغاز ہورہا ہے لہذا بقایہ جات کی اجرائی پر حکومت کو موقف واضح کرنا چاہئے۔ مقدمہ کی آئندہ سماعت 24 جون کو مقرر کی گئی۔ سماعت کے دوران حکومت کی نمائندگی کرتے ہوئے اسپیشل گورنمنٹ پلیڈر نے جی او سے متعلق حکومت سے تفصیلات حاصل کرنے کے لئے مزید وقت مانگا۔ حکومت نے ایس سی، ایس ٹی، بی سی، ای بی سی اور اقلیتی طلبہ کو فیس ری ایمبرسمنٹ کی رقم راست اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ خانگی کالجس کے وکلاء نے کہاکہ جولائی سے نئے تعلیمی سال کا آغاز ہوگا اور بقایہ جات کی اجرائی میں حکومت کی تاخیر سے کالجس کو مشکلات کا سامنا ہے۔ وکلاء نے عدالت سے درخواست کی کہ وہ کالجس کی جانب سے فیس کی حصولی پر پابندی پر روک لگائے۔ حکومت نے بقایہ جات کی اجرائی کے سلسلہ میں بارہا مہلت طلب کی ہے لیکن اجرائی عمل میں نہیں لائی گئی۔ واضح رہے کہ طلبہ کی جانب سے بھی ہائیکورٹ میں علیحدہ درخواستیں داخل کی گئی ہیں۔Y/I/V/1