قاہرہ: فلسطینی باسم ابو عون مشرقی قاہرہ کے ایک محلے میں اپنے ریستوران میں غزہ طرز کا ترکی شوارما بناتے ہیں جہاں جنگ سے فرار ہو کر آنے والے فلسطینیوں نے کئی ایسے کاروبار قائم کر لیے ہیں۔ ان کی بڑھتی ہوئی تعداد نے اس علاقے کو “چھوٹے غزہ” کا نام دے دیا ہے۔”یہ ایک بہت بڑا جوا تھا۔” 56 سالہ شخص نے اپنا ریسٹورنٹ حی الرمال کھولنے کے بارے میں کہا جس کا نام انہوں نے غزہ شہر میں اپنے محلے کے نام پر رکھا جو اب اسرائیلی بمباری سے تباہ ہو چکا ہے۔”میں اپنے پاس موجود پیسے پر ایک سال تک زندہ رہ سکتا تھا یا کاروبار کھول لیتا اور باقی قسمت پر چھوڑ دیتا،” انہوں نے کہا۔چنانچہ انہوں نے ریستوران کھول لیا۔نو آموز فلسطینی کاروباریوں نے ایسے کئی کام شروع کر دیئے ہیں حالانکہ مصر نے انہیں صرف عارضی قیام کی اجازت دی ہے۔قاہرہ میں یہ جگہیں صدمے سے دوچار فلسطینی باشندوں کیلئے ایک پناہ گاہ بن گئی ہیں جو انہیں روزی فراہم کرتی ہیں۔ ان میں سے کئی افراد جنگ میں اپنا سب کچھ کھو چکے ہیں۔ابو عون نے کہا، “اگر غزہ میں جنگ اب رک جائے تو بھی مجھے اپنی زندگی کو دوبارہ ایک راہ پر لانے میں کم از کم دو یا تین سال لگیں گے۔ وہاں سب کچھ ختم ہو چکا ہے۔”ان کے گاہک بنیادی طور پر ساتھی فلسطینی ہیں جو غزہ کی اپنی الگ زبان میں بات چیت کرتے ہوئے سینڈوچ کھاتے ہیں۔ یہ انہیں گھر کی یاد دلاتے ہیں۔اس کی دکان کے ساتھ والی دیوار پر مصری اور فلسطینی پرچموں کی ایک دیواری پینٹنگ بنی ہوئی تھی۔ریستوران مالک نے کہا، “مجھ پر اپنے خاندان اور یونیورسٹی میں زیرِ تعلیم بچوں کی ذمہ داری ہے۔”مصر میں فلسطینی حکام کے مطابق ابو عون اور ان کا خاندان ان 120,000 سے زائد فلسطینیوں میں شامل ہیں جو گذشتہ سال نومبر سے اس سال مئی کے درمیان مصر پہنچے تھے۔وہ رفح راہداری سے آئے تھے جو غزہ کا بیرونی دنیا کیلئے واحد خارجی راستہ ہے۔ پھر مئی کے اوائل میں اسرائیلی افواج نے فلسطینی علاقے پر قبضہ کر لیا اور تب سے یہ بند ہے۔
اگرچہ مصر کا اصرار ہے کہ وہ اپنی سرزمین پر مستقل پناہ گزین کیمپوں کی اجازت دے کر اسرائیل کے حکم کی بجا آوری نہیں کرے گا لیکن اس نے طبی انخلاء ، دوہرے پاسپورٹ کے حامل اور دیگر افراد کو اجازت دی تھی جو فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے تھے۔کئی لوگوں نے فرار ہونے کیلئے اپنی زندگی بھر کی جمع پونچی صرف کر دی اور ایک نجی مصری ٹریول ایجنسی کو ہزاروں ڈالر ادا کیے جو غزہ سے انخلاء کیلئے رابطہ کاری کرنے والی واحد کمپنی تھی۔