قرآن کی بے حرمتی کے واقعہ کیخلاف احتجاج میںایران ملوث :سویڈش پراسیکیوٹر

   

اسٹاکہوم: سویڈن کے پراسیکیوٹر نے ایران پر الزام لگایا ہیکہ 2023 میں ہیکنگ کی کارروائی میں ایرانی خفیہ ادارے ملوث تھے۔ جو سویڈن میں مسلمانوں کی الہامی کتاب قرآن مجید کو نذرآتش کیے جانے کی کارروائی کیخلاف جوابی کارروائی کے طور پر کرائی تھی۔ پراسیکیوٹر نے یہ الزام منگل کو لگاتے ہوئے کہا ہیکہ ہیکنگ سے متعلق ایک ایس ایم ایس آپریٹر نے لوگوں کو پیغام بھجوائے جن میں ابھارا گیا تھا کہ وہ قرآن پاک کو نذرآتش کرنے کا انتقام لیں۔ پراسیکیوشن کے مطابق اس طرح کے 15 ہزار پیغام قرآن کو جلانے کے خلاف موصول ہوئے۔ جو 2023 کے موسم گرما میں قرآن پاک کو جلائے جانے کے واقعہ کے خلاف احتجاج کا باعث بنا تھا۔سویڈن پراسیکیوٹر نے قرآن مجید کو جلائے جانے کے واقعہ پر ردعمل ظاہر کرنے کو سویڈش سوسائٹی کو تقسیم کرنے کے مترادف قرار دیا ہے۔ ساکو کے سربراہ فیڈرک ہیل سٹوم نے اپنے ایک باضابطہ بیان میں بتایا ہیکہ ایک ہیکر گروپ نے ایرانی پاسداران انقلاب کی وجہ سے ایسا کیا اور قرآن سوزی کے خلاف ایک مہم بھی چلائی۔ اس مہم کا نتیجہ یہ ظاہر کرنا تھا کہ سویڈن ایک اسلام دشمن ملک ہے۔ اس لیے اس کے ہاں قرآن مجید کو جلایا جاتا ہے۔ یکم اگست 2023 کو سویڈش میڈیا نے رپورٹ کیا تھا کہ بڑی تعداد میں سویڈش کے رہنے والے لوگوں کو ایک ٹیکسٹ میسج کیا گیا جس میں انہیں کہا گیا کہ وہ قرآن کے جلانے کے واقعہ کے مرتکب افراد کو انتقام کا نشانہ بنائیں۔ جنھوں نے مسلمانوں کی مقدس کتاب کو جلایا ہے۔