قرآن

   

اللہ سزا دے رہا ہے اُنھیں اِس مذاق کی اور ڈھیل دیتا ہے اُنھیں تاکہ اپنی سرکشی میں بھٹکتے رہیں۔ ( سورۃ البقرہ ۔۱۵) 
علامہ قرطبی رحمہ اللہ نے لفظ استہزاء کی لغوی تحقیق کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اصل الاستھزاء الانتقام۔ استہزاء کا معنی انتقام لینا ہے۔ سند کے طور پر یہ شعر بھی لکھا ہے ؎ ’’قد استھزأ و امنہم بالفی مدجج … سراتہم وسط الضحاضح جثم ‘‘اس تحقیق کے مطابق اَللَّـهُ يَسْتَهْزِئُ بِـهِـمْ کا معنی ہوگا کہ اللہ تعالیٰ ان سے ان کی شرارتوں کا انتقام لیتا ہے۔ اس معنی میں اللہ تعالیٰ کی طرف استہزاء کی نسبت میں کوئی قباحت نہیں۔ نیز اہل عرب میں یہ عام محاورہ ہے کہ جب کوئی کام کسی فعل کی سزا دینے کے لئے کیا جائے تو اس کی تعبیر بھی اسی لفظ سے کر دیتے ہیں جس لفظ سے اس فعل کی تعبیر کی گئی ہو جس پر سزا یا عتاب کیا جا رہا ہےیعنی برے فعل کی جزاء بھی اسی طرح بری ہوا کرتی ہے ۔ حالانکہ سزا جو عدل وانصاف کا عین تقاضا ہوتا ہے بری نہیں ہوتی۔ یا نَسُوا اللّٰهَ فَاَنْسَاهُـمْ۔ اُنھوں نے خدا کو بھلا دیا اور خدا نے اُن کو بھلا دیا۔ حالانکہ خدا کی ذات بھول سے پاک ہے ۔ لیکن اُن کے بھلانے پر جو سزا دی گئی اُس کو بھلانے سے تعبیر کیا گیا۔ اِسی طرح استہزاء پر منافقین کو جو سزا دی گئی اُس کو بھی استہزاء سے بیان کر دیا ۔ کیونکہ یہ استعمال محاورہ عرب کے عین مطابق تھا۔ اِس لئے کفار جو قرآن پر اعتراض کرنے کے لئے کسی ادنی سے بہانے کے متلاشی رہتے تھے اِس استعمال پر کوئی اعتراض نہ کر سکے۔