اُن کی مثال اس شخص کی سی ہے جس نے آگ روشن کی پھر جب جگمگا اُٹھا اُس کا آس پاس تو لے گیا اللہ اُن کا نور اور چھوڑ دیا اُنھیں گُھپ اندھیروں میں کہ کُچھ نہیں دیکھتے۔یہ بہرے ہیں گونگے ہیں اندھے ہیں سو وہ نہیں پھریں گے۔ ( سورۃ البقرہ ۱۷۔۱۸)
مَثَلٌ، مِثْلٌ اور مَثِیْلٌ تینوں کا معنی نظیر ہے ۔ لیکن اس کا عام استعمال ضرب المثل (اُردو) کے معنی میں ہوتا ہے۔ اور بطور استعارہ ایسی حالت کے بیان کو بھی مثل کہتے ہیں جس میں نُدرت اَور اوپراپن ہو۔ یہاں یہ لفظ اِسی مفہوم میں مذکور ہوا ہے۔ یعنی ان منافقوں کی عجیب وغریب حالت ایسی ہے جیسے اُن لوگوں کی جن کا ذکر اس آیت میں ہے۔منافقوں کے دو گروہ تھے ایک وہ جو دل سے کفر پر جمے ہوئے تھے اور صرف زبان سے اپنے آپ کو مسلمان کہتے ۔ دوسرا وہ جو ایمان تو قبول کرتے لیکن مصائب ومشکلات سے گھبرا کر پھر اسلام سے دست بردار ہوجاتے۔ پہلے گروہ کی مثال اس آیت میں بیان کی گئی ہے اور دوسرے گروہ کی اَوْ كَصَيِّبٍ الخ میں۔ اس مثال میں جن لوگوں کا حال بیان کیا گیا ہے ان کی وضاحت حضرت صدر الافاضل مراد آبادی قدس سرہٗ نے خوب کی ہے ۔ فرماتے ہیں ’’ جنہوں نے اظہارایمان کیا اور دل میں کفر رکھ کر اقرار کی روشنی کو ضائع کردیا۔ اور وہ بھی جو مومن ہونے کے بعد مرتد ہو گئے اور وہ بھی جنہیں فطرت سلیمہ عطا ہوئی اور دلائل کی روشنی میں حق واضح کر دیا مگر انہوں نے فائدہ نہ اُٹھایا اور گمراہی اختیار کی۔ اور جب حق سننے، ماننے، کہنے اور راہ حق دیکھنے سے محروم ہوئے تو کان، زبان، آنکھ سب بےکار ہیں۔‘‘ (خزائن العرفان) ۔