لاپتہ بچہ 10 سال بعد دستیاب ، ڈائرکٹر جنرل شیکھا گوئیل کا قابل تحسین اقدام

   

اینٹی ہیومن ٹریفکینگ اور سی آئی ڈی کی ٹکنیکل ٹیموں کا کارنامہ ، پرانے شہر حیدرآباد سے تعلق رکھنے والی ماں خوشی سے سرشار
حیدرآباد /14 ڈسمبر ( سیاست نیوز ) تلنگانہ پولیس کی ویمنس سیفٹی ونگ نے ایک ماں کو اس کے بچے سے ملادیا ۔ 10 سال قبل پرانے شہر کے علاقہ سے لاپتہ محمد خلیل غوری کو پولیس نے دوبارہ اس کی والدہ کے حوالے کردیا۔ 10 سال تک بیٹے کے انتظار میں خاتون کے آنسو سوکھ چکے تھے ۔ لیکن اس نے امید نہیں چھوڑی تاہم ان 10 سالوں کے عرصہ میں کافی کچھ بدل چکا تھا ۔ خلیل جو 12 سال کی عمر میں لاپتہ ہوا تھا اب خلیل نہیں رہا بلکہ ابھینو سنگھ بن گیا تھا جو اترپردیش کے کانپور میں ایک ریٹائرڈ سرکاری ملازم نہیلی سنگھ کے مکان میں زیر پرورش تھا ۔ 12 سال کی عمر میں جب خلیل غوری حیدرآباد سے لاپتہ ہوا تھا وہ اترپردیش بذریعہ ٹرین پہونچا ۔ اس کی والدہ کے یہاں سوائے آدھار کارڈ کے کوئی اور شناخت نہیں تھی ۔ جو اس نے پولیس کنچن باغ کو اس وقت فراہم کی تھی ۔ کانپور ریلوے اسٹیشن پر بھٹکتے پھر رہے اس 12 سالہ بچے کو ریلوے پولیس نے چائلڈ کیر انسٹی ٹیوشن ریلوے پولیس کانپور کے حوالے کیا ۔ جو سال 2022 تک رہا ۔ جس کے بعد ایک ریٹائرڈ سرکاری ملازم نے اس کی کفالت کی ذمہ داری حاصل کرلی ۔ کانپور میں خلیل کی موجودگی کا پتہ چلانے میں تلنگانہ پولیس کی اینٹی ہیومن ٹرائکنگ یونٹ سی آئی ڈی تلنگانہ جو ویمن سیفٹی ونڈ کی ٹکنیکل ٹیموں نے کامیاب کوشش کی ۔ ڈائرکٹر جنرل شیکھا گوئل کے اس قابل تحسین اقدام نے ایک ماں کی خوشیوں کو لوٹا دیا ۔ ڈائرکٹر جنرل ویمن سیفٹی ونگ شیکھا گوئل کی جانب سے قدیم مقدمات پر تحقیقات جاری ہیں۔ مقامی پولیس سے تفصیلات حاصل کرتے ہوئے ٹکنیکل ماہرین اور ٹکنالوجی کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے خصوصی ٹیمیں گمشدہ افراد کا پتہ چلانے میں مصروف ہیں ۔ ان کوششوں کا نتیجہ رہا کہ ایک بے بس نااُمید کا شکار خاتون کو اس کا بیٹا 10 سال کے بعد واپس ملا ۔شیکھا گوئل نے بتایا کہ ناچارم کے شانتی سری ہوم سے سال 2015 میں لاپتہ گیارہ سالہ گنگا عرف گنگامنی کو اینٹی ہیومن ٹرائکنگ یونٹ نے 9 سال بعد برآمد کیا ۔ تحقیقات کے دوران پولیس کو پتہ چلاکہ لڑکی بلون فروخت کرتی تھی ۔ اینٹی ہیومن ٹرائکنگ یونٹ نے تلنگانہ کے تمام اضلاع میں بلون فروخت کرنے والوں کی تفصیلات حاصل کی اور لڑکی کو نظام آباد سے برآمد کیا ۔ جس نے نظام آباد ٹاون میں سائبا تارو نامی شخص سے شادی کرلی تھی اور اس کے دو بچے ہیں جو چار سال سے نظام آباد میں زندگی بسر کر رہی ہے ۔ اس کے علاوہ سال 2017 میں چندرائن گٹہ علاقہ سے لاپتہ دو لڑکیوں 10 سالہ اور 8 سالہ لڑکیوں کو 7 سال کے بعد بنگلور میں برآمد کیا گیا ۔ شی ٹیم سائبر لیاب اور اینٹی ہیومن ٹرائکنگ یونٹ ویمن سیفٹی ونگ نے پتہ چلایا ۔ محترمہ شیکھا گوئل نے بتایا کہ نومبر 2024 تک 22,780 گمشدہ مقدمات درج ہوئے اور ان میں 19191 مقدمات کو یکسوئی کرلی گئی اور اس طرح 84.25 فیصد کامیاب ریکاڈ کیا گیا ۔ ع