لوک سبھا انتخابات سے قبل بی آر ایس کو متواتر جھٹکے

   

پی مہیندر ریڈی کی شریک حیات کے ساتھ 11 یا 12 فبروری کو کانگریس میں شمولیت کا امکان
حیدرآباد ۔ 10 فبروری (سیاست نیوز) سابق وزیر و بی آر ایس کے رکن قانون ساز کونسل پی مہیندر ریڈی اور ان کی شریک حیات وقارآباد کی ضلع پریشد چیرپرسن سنیتا پارلیمانی انتخابات سے قبل بی آر ایس پارٹی کو جھٹکا دینے والے ہیں۔ باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہیکہ وہ بہت جلد کانگریس میں شامل ہوں گے۔ اگر سب کچھ پلان کے مطابق ہوا اور کانگریس ہائی کمان کی منظوری حاصل ہونے پر دونوں میاں بیوی کا جوڑا 11 یا 12 فبروری کو بھی کانگریس میں شامل ہونے کے قوی امکانات ہیں۔ گذشتہ تین دہوں سے ضلع رنگاریڈی کی سیاست پر مضبوط پکڑ رکھنے والے مہیندر ریڈی حالیہ دنوں میں بی آر ایس قیادت سے ناراض ہیں۔ اسمبلی انتخابات میں ہی وہ بی آر ایس سے مستعفی ہوکر کانگریس میں شامل ہونے والے تھے تاہم بی آر ایس کے سربراہ کے سی آر اور ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی آر نے انہیں سمجھا منا کر پارٹی میں برقرار رکھا تھا۔ پارٹی میں اہمیت نہ دینے پر مہیندر ریڈی ناراض ہے۔ چند دن قبل وہ اپنی شریک حیات کے ساتھ چیف منسٹر ریونت ریڈی کی قیامگاہ پہنچ کر ان سے خیرسگالی ملاقات کی تھی اور حلقہ لوک سبھا چیوڑلہ سے ٹکٹ کے مسئلہ پر تبادلہ خیال کیا تھا۔ باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہیکہ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے مثبت ردعمل کا اظہار کیا ہے اور پارٹی ہائی کمان کو اس سے واقف کرادیا ہے۔ ذرائع سے پتہ چلا ہیکہ مہیندر ریڈی کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھرگے یا راہول گاندھی سے ملاقات کرتے ہوئے کانگریس میں شامل ہونے کے خواہشمند ہیں۔ راہول گاندھی پدیاترا میں ہے اور ملکارجن کھرگے پارلیمنٹ اجلاس میں مصروف ہے۔ ہفتہ کو پارلیمنٹ کا اجلاس اختتام کو پہنچ رہا ہے۔ اس لئے امید کی جارہی ہیکہ 11 یا 12 فبروری کو مہیندر ریڈی اپنی شریک حیات کے ساتھ کانگریس میں شامل ہوں گے۔2