لوک سبھا انتخابات مسلمانوں کیلئے کڑی آزمائش

سکیولر ووٹوں کی تقسیم روکنا ہر مسلمان کا سماجی فرض
فرقہ پرستوں کی سازش کو ناکام بنانے کی ضرورت، علاقائی جماعتوں کی تائید سے بی جے پی کو راست فائدہ
= مودی حکومت کو ٹی آر ایس کی بھرپور حمایت
= یونائٹیڈفورم کے فیصلے سے مسلمانوں کو مایوسی
= چیف منسٹر کے سی آر سے اقلیتیں ناراض
= سکیولر پارٹی ہی امن و امان و یکجہتی کی ضامن

حیدرآباد۔ 21 مارچ (سیاست نیوز) لوک سبھا انتخابات میں اصل مقابلہ سکیولر طاقتوں کا فرقہ پرست عناصر کے ساتھ ہے۔ ایسے میں اقلیتوں پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ملک میں فرقہ پرست طاقتوں کو برسر اقتدار آنے سے روکنے کے لیے چوکسی اختیار کریں۔ ملک کی یکجہتی، سالمیت اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو گزشتہ پانچ برسوں میں جس طرح نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی اس کی مثال سابق میں نہیں ملتی۔ اسمبلی اور لوک سبھا انتخابات میں موضوعات مختلف ہوتے ہیں۔ مقامی مسائل پر اسمبلی انتخابات میں عوام اپنے ووٹ کا استعمال کرتے ہیں جبکہ لوک سبھا میں قومی مسائل عوام کی ترجیح ہوتے ہیں۔ گزشتہ پانچ برسوں میں نریندر مودی کی زیر قیادت بی جے پی حکومت نے جس طرح فرقہ پرستی کو فروغ دیا اور اقلیتوں کو جس منظم انداز میں نشانہ بنایا گیا اس سے مسلمانوں میں عدم تحفظ کا احساس پیدا ہوچکا ہے۔ وقت کی اہم ضرورت ہے کہ سکیولر طاقتوں کو مستحکم کرنے کے لیے مسلم جماعتیں اور تنظیمیں میدان میں آئیں۔ انہیں چاہئے کہ وہ سکیولر ووٹ کی تقسیم کو روکیں تاکہ مرکز میں سکیولر ذہن رکھنے والی جماعتیں برسر اقتدار آتے ہوئے ملک میں امن و امان اور یکجہتی کو بحال کریں۔ تلنگانہ میں اگرچہ مقابلہ ٹی آر ایس اور کانگریس کے درمیان ہے، لیکن لوک سبھا انتخابات کی اہمیت کو پیش نظر رکھتے ہوئے مسلم رائے دہندوں کی تائید کانگریس کے ساتھ ہونی چاہئے۔ کیوں کہ سکیولر طاقتوں کا نشانہ مرکز میں سکیولر حکومت کی تشکیل ہے۔ ایسے میں علاقائی جماعتوں کی تائید کے ذریعہ ووٹ کی تقسیم سے فائدہ بی جے پی کو پہنچ سکتا ہے۔ سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ تلنگانہ کی برسر اقتدار ٹی آر ایس نتائج کے بعد تشکیل حکومت کے سلسلہ میں ضرورت پڑنے پر این ڈی اے کی تائید کرسکتی ہے۔ گزشتہ پانچ برسوں میں ٹی آر ایس نے تمام اہم مواقع پر نریندر مودی حکومت کا ساتھ دیا۔ اس تجربے کو دیکھتے ہوئے تلنگانہ کی مسلم تنظیموں اور جماعتوں کو اپنے شعور کا مظاہرہ کرتے ہوئے فرقہ پرستوں کو اقتدار سے روکنے کے واحد ایجنڈے کے تحت کام کرنا ہوگا۔ اسی دوران یونائیٹیڈ مسلم فورم نے لوک سبھا انتخابات میں 16 نشستوں سے ٹی آر ایس کی تائید کا اعلان کردیا۔ جبکہ اسمبلی انتخابات میں فورم نے مسلم رائے دہندوں پر فیصلہ چھوڑ دیا تھا کہ وہ سکیولر امیدواروں کے حق میں اپنے ووٹ کا استعمال کریں۔ اسمبلی انتخابات میں ٹی آر ایس اور کانگریس میں کسی کی کھل کر تائید نہیں کی گئی تھی اور فورم نے دونوں پارٹیوں کے اہم قائدین سے ان کے ایجنڈے پر بات چیت کی تھی۔ اس مرتبہ کسی بھی پارٹی سے بات چیت اور ان کے ایجنڈے سے واقف ہوئے بغیر ہی یکطرفہ طور پر ٹی آر ایس کی تائید کا اعلان کردیا گیا۔ فورم میں شامل بعض ذمہ داروں نے اگرچہ نجی طور پر اس فیصلے سے اپنی ناراضگی جتائی تاہم وہ کھل کر اس بارے میں کہنے سے گریز کررہے ہیں۔ فورم میں شامل ایک ذمہ دار نے کہا کہ بعض شرکاء کی رائے تھی کہ اس مرتبہ بھی سکیولر امیدواروں کی تائید کا اعلان کیا جائے۔ تاکہ جہاں کانگریس مضبوط ہو وہاں کانگریس کے امیدوار منتخب ہوسکیں۔ گزشتہ پانچ برسوں میں ٹی آر ایس کی خفیہ طور پر بی جے پی سے قربت کے نتیجہ میں تلنگانہ کی اقلیتوں میں ناراضگی پائی جاتی ہے۔ لہٰذا فورم کو چاہئے تھا کہ وہ اسمبلی کی طرح لوک سبھا انتخابات میں بھی سکیولر امیدواروں کی تائید کی اپیل کرتے۔ بتایا جاتا ہے کہ فورم کے صدر جو حکومت کے سرکاری ادارے کے صدرنشین بھی ہیں، انہوں نے اس فیصلے میں اہم رول ادا کیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اسمبلی انتخابات سے قبل چیف منسٹر کی جانب سے فورم کے قائدین کو ملاقات کا وقت نہ دیئے جانے پر ناراضگی تھی جس کے نتیجہ میں ٹی آر ایس کی کھل کر تائید نہیں کی گئی۔ اسمبلی انتخابات کے نتائج سے آج تک بھی کے سی آر نے فورم کے ذمہ داروں سے ملاقات نہیں کی۔ پھر بھی سرکاری عہدے کی مجبوری نے فورم کے ذمہ داروں کو ٹی آر ایس کی تائید کے حق میں کھڑا کردیا۔ اسمبلی انتخابات کے وقت مولانا حمید الدین حسامی عاقلؒ کے جانشین مولانا حسام الدین ثانی جعفر پاشاہ نے فورم کی سرگرمیوں سے اختلاف کرتے ہوئے علیحدگی اختیار کرلی تھی۔ فورم میں کئی ایسے ذمہ دار ہیں جو موجودہ سرگرمیوں سے ناراض ہوکر دوری اختیار کیئے ہوئے ہیں۔ کیونکہ فیصلوں پر مقامی جماعت کا دبائو ہوتا ہے اور مخالفت کی صورت میں ان کیلئے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔ فورم نے ٹی آر ایس کی تائید کا جو فیصلہ کیا ہے اس سے عام مسلمانوں میں بے چینی پائی جاتی ہے کیونکہ قومی سطح پر سکیولر طاقتوں کے استحکام کیلئے ضروری تھا کہ کسی ایک پارٹی کے حق میں فیصلہ کی بجائے رائے دہندوں سے کسی بھی سکیولر امیدوار کی تائید کی اپیل کی جاتی۔

TOPPOPULARRECENT