جب جب ظلم ہوگا تب تب جہاد ہوگا‘مسلمانوں کو بدنام کرنے کی سازش کا الزام‘ محمود مدنی کا خطاب
نئی دہلی۔ 29 نومبر ( ایجنسیز ) صدرِ جمعیت مولانا محمود اسعد مدنی نے کہا کہ ملک کی موجودہ صورت حال انتہائی حساس اور فکر انگیز ہے۔ ایک خاص طبقہ کی بالادستی اور دوسرے طبقوں کو قانونی طور پر بے بس، سماجی طور پر علیحدہ اور معاشی طور پر بے عزت، رسوا اور محروم بنانے کیلئے معاشی بائیکاٹ، بلڈوزر ایکشن، ماب لنچنگ، مسلم اوقاف کی سبوتاڑی، دینی مدارس اور اسلامی شعائر کے خلاف منفی مہم کی باقاعدہ اور منظم کوششیں کی جا رہی ہیں۔مولانا مدنی نے کنورژن لاء کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ ہمارے ملک کے آئین نے ہمیں اپنے مذہب پر چلنے اور اس کی تبلیغ کی اجازت دی ہے لیکن اس قانون میں ترمیم کے ذریعہ اس بنیادی حق کو ختم کیا جارہا ہے۔ اس قانون کو اس طرح استعمال کیا جا رہا ہے کہ مذہب کی تبلیغ کا عمل جرم اور سزا کا سبب بن جائے۔ انہوں نے ’لو جہاد‘ جیسے من گھڑت فتنے پر شدید ناراضی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اسلام دشمن عناصر نے جہاد جیسی مقدس دینی اصطلاح کو گالی اور تشدد کا ہم معنی بنا دیا ہے اور لو جہاد، لینڈ جہاد، تعلیم جہاد، تھوک جہاد جیسے جملوں کے ذریعے مسلمانوں کو بدنام اور ان کے مذہب کی توہین کی جارہی ہے۔ افسوس کی بات ہے کہ حکومت اور میڈیا کے بعض ذمہ دار بھی ایسے الفاظ کے استعمال سے گریز نہیں کرتے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسلام میں جہاد ایک مقدس فریضہ ہے جس کا مقصد ظلم کا خاتمہ، انسانیت کی حفاظت اور امن کا قیام ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جب جب ظلم ہوگا تب تب جہاد ہوگا۔جمعیت علماء ہند کی مجلسِ منتظمہ کا اجلاس آج برکت اللہ ایجوکیشن کیمپس بھوپال میں صدرِ جمعیت مولانا محمود اسعد مدنی کی صدارت میں منعقدہوا، جس میں وقف ترمیمی ایکٹ ، اسلاموفوبیا، مفروضہ لو جہاد، دینی مدارس کے تحفظ، اسلامی ماحول میں عصری تعلیم، یکساں سیول کوڈ اور فلسطین میں جاری نسل کشی جیسے اہم مسائل پرواضح موقف پیش کیا گیا۔اجلاس میں ملک بھر سے 15 سو ارکان مجلس منتظمہ نے شرکت کی۔ پہلی نشست میں صدارتی خطاب میں مولانا محمود اسعد مدنی کئی اہم امور کا احاطہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان ایک جمہوری و سیکولر ملک ہے جہاں اسلامی ریاست کا تصور موجود نہیں، اس لیے یہاں جہاد کے نام پر کوئی بحث ہی نہیں۔ مسلمان آئینی طور پر پابند ہیں اور حکومت شہری حقوق کے تحفظ کی ذمہ دار ہے۔ مولانا مدنی نے واضح کیا کہ اسلام کے نزدیک ’جہادِ اکبر‘ انسان کے اندر کی برائی، حرص، لالچ، غصے اور نفس کی بغاوت سے لڑنے کا نام ہے جو ہر زمانے میں سب سے بڑی جدوجہد ہے۔مولانا مدنی نے گرو تیغ بہادر کی 350 ویں شہادت دیوس کے موقع پر یک جہتی کا اظہار کیا اور کہا کہ مغل دور میں گرو صاحب کے کم سن صاحبزادگان کا قتل ظلم و نا انصافی پر مبنی تھا۔ مولانا مدنی نے اس موقع پر عدلیہ کے کردارپر بھی سوال اٹھا یا اور کہا کہ سپریم کورٹ اس وقت تک ہی سپریم کہلانے کا مستحق ہے جب تک آئین کی پابندی کرے، قانون کے حقوق کا خیال رکھے۔