لگچرلہ میں فارما سٹی یا انڈسٹریل کوریڈور؟

   

چیف منسٹر ریونت ریڈی سے ہریش راؤ کا سوال، عوامی ناراضگی کے سبب موقف تبدیل کرنے کا الزام

حیدرآباد۔ 24 نومبر (سیاست نیوز) بی آر ایس کے رکن اسمبلی اور سابق وزیر ٹی ہریش راؤ نے کہا کہ مہاراشٹرا اسمبلی انتخابات میں شکست سے سبق لیتے ہوئے کانگریس پارٹی کو اپنے رویہ میں تبدیلی لانی چاہئے۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ہریش راؤ نے کہا کہ مہاراشٹرا میں رائے دہندوں نے کانگریس اور اس کی حلیف پارٹیوں کو مسترد کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر ریونت ریڈی کے اسمبلی حلقہ کوڑنگل کے لگچرلہ میں سیاسی قائدین کو دورہ سے روکا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں جمہوریت کا کوئی وجود نہیں ہے اور ریونت ریڈی حکومت ڈکٹیٹر شپ کے انداز میں حکمرانی کررہی ہے۔ ہریش راؤ نے کہا کہ مہاراشٹرا میں کانگریس کو عوام نے سبق سکھایا۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر نے اپنا بیان تبدیل کرتے ہوئے لگچرلہ میں فارما سٹی کی بجائے انڈسٹریل کوریڈور کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر نے حکومت کی جانب سے 19 جولائی کو جاری کردہ گزٹ نوٹیفکیشن کے برخلاف جھوٹ سے کام لیا ہے۔ لگچرلہ میں گاؤں والوں کی ناراضگی کو دیکھتے ہوئے چیف منسٹر نے بیان تبدیل کردیا۔ انہوں نے کہا کہ فارما سٹی کے بارے میں عوامی مخالفت میں اضافے کو دیکھتے ہوئے انڈسٹریل کوریڈور کی بات کہی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر کو جولائی میں جاری کردہ گزٹ نوٹیفکیشن پر وضاحت کرنی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اگر انڈسٹریل کوریڈور کے نام سے نیا گزٹ نوٹیفکیشن جاری کرتی ہے تو ایسی صورت میں عوام کو بھروسہ ہوسکتا ہے۔ انہوں نے چیف منسٹر سے مطالبہ کیا کہ وہ لگچرلہ کا دورہ کرتے ہوئے عوام سے ملاقات کریں۔ ہریش راؤ نے مقامی افراد کے خلاف دائر کردہ مقدمات سے دستبرداری کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ کالیشورم پراجکٹ کے بارے میں کانگریس کی جانب سے جھوٹا پروپگنڈہ کیا گیا جبکہ پراجکٹ کے ذریعہ 20 ٹی ایم سی پانی حیدرآباد کو سربراہ کرنے کی تیاری ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر کالیشورم پراجکٹ نہ ہوتا تو 20 ٹی ایم سی پانی کہاں سے سربراہ کیا جاتا۔ ہریش راؤ نے فارما سٹی کے بارے میں چیف منسٹر کی غلط بیانی کو نشانہ بنایا اور کہا کہ جھوٹ کہنے میں ریونت ریڈی کو پی ایچ ڈی کی ڈگری دی جانی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ حضور آباد میں کے سی آر حکومت نے 18500 افراد کو دلت بندھو اسکیم منظور کی تھی انہوں نے کئی خاندانوںکو 5 لاکھ روپے کی ادائیگی باقی ہے۔ دلت خاندانوں نے جب دھرنا منظم کیا تو ان کے خلاف مقدمات درج کئے گئے۔ 1