متعدد سرکاری میڈیکل کالجس کی کارکردگی غیر اطمینان بخش

   

تلنگانہ کے 26 کالجس کو داخلوں کی اجازت نہ ملنے پر 2700 نشستیں کم ہونے کا خدشہ
حیدرآباد۔15۔جون(سیاست نیوز) نیشنل میڈیکل کمیشن تلنگانہ میں چلائے جانے والے 26 سرکاری میڈیکل کالج کے طرز کارکردگی سے مطمئن نہیں ہے اور اگر ان 26 میڈیکل کالجس کو نیشنل میڈیکل کمیشن کی جانب سے جاریہ سال داخلوں کی اجازت فراہم نہیں کی جاتی ہے تو ایسی صورت میں تلنگانہ میں موجود میڈیکل کی نشستوں میں 2700 نشستیں کم ہونے کا خدشہ ہے۔ ان میڈیکل کالجس کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے قومی میڈیکل کمیشن نے سیکریٹری محکمہ صحت اور ڈائریکٹر میڈیکل ایجوکیشن کو سمن جاری کرتے ہوئے ہوئے 18 جون کو دہلی میں منعقد ہونے والی سماعت میں شخصی طور پر حاضر رہنے کی ہدایت دی ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ ریاستی حکومت کی جانب سے چلائے جانے والے ان میڈیکل کالجس میں کئی بدعنوانیاں و بے قاعدگیاں جاری ہیں اور ان بدعنوانیوں کی نشاندہی کے بعد ہی نیشنل میڈیکل کمیشن کی جانب سے سیکریٹری محکمہ صحت اور ڈائریکٹر میڈیکل ایجوکیشن کو حاضر ہونے کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ ان سے سوالات اور بے قاعدگیوں کے متعلق تفصیلات حاصل کرنے کے بعد ہی ان 26 کالجس میں موجود 2700 ایم بی بی ایس کی نشستوں پر داخلوں کی فراہمی کے سلسلہ میں اجازت کے متعلق فیصلہ کیا جاسکے۔ ڈائریکٹر انڈر گریجویٹ میڈیکل ایجوکیشن بورڈ محترمہ شکلا مینا نے گذشتہ دنوں سیکریٹری محکمہ صحت اور ڈائریکٹر میڈیکل ایجوکیشن کو شخصی طور پر سماعت کے دوران دہلی میں حاضررہنے کی ہدایت دی ہے جبکہ مذکورہ کالجس کے پرنسپل اورڈین کو آن لائن سماعت میں شامل رہنے کی ہدایت دی ہے۔ ایم بی بی ایس داخلوں سے قبل ہر سال کی طرح اس سال بھی نیشنل میڈیکل کمیشن کے عہدیداروں کی جانب سے کالجس کا معائنہ کرنے کے بعد عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے یہ کاروائی کی گئی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ UGMSR-2023 کے قوائد کے مطابق تمام کالجس میں انفراسٹرکچر ‘ فیکلٹی ‘ آدھار سے مربوط بائیومیٹر حاضری نظام‘ طلبہ کے لئے قابل لحاظ تعداد میں مریضوں کی موجودگی کا جائزہ لیا جاتا ہے۔عہدیداروں کے مطابق کاکتیہ میڈیکل کالج کے ساتھ تلنگانہ میں جملہ 26 ایسے میڈیکل کالجس کی نشاندہی کی گئی ہے جہاں رہنمایانہ خطوط پر عمل آوری نہیں کی جا رہی ہے بلکہ مرکزی حکومت کی ہدایات کو نظر انداز کیا جا رہاہے اسی لئے نیشنل میڈیکل کمیشن نے ان 26 میڈیکل کالجس میں داخلوں کی فراہمی کے سلسلہ میں ازسر نو جائزہ لیتے ہوئے اقدام کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔3