مجالس مقامی چناؤ میں 2 بچوں کی شرط سے متعلق قانون کے خلاف درخواست ہائیکورٹ میں مسترد

   

حیدرآباد 4 مارچ (سیاست نیوز) ہائیکورٹ نے مجالس مقامی کے انتخابات میں حصہ لینے 2 بچوں کی شرط سے متعلق قانون کو چیلنج کرنے داخل کی گئی مفاد عامہ کی درخواست کو مسترد کردیا۔ کارگذار چیف جسٹس سجئے پال اور جسٹس وائی رینوکا پر مشتمل بنچ نے کہاکہ پنچایت راج ایکٹ 2018 کے سیکشن 21(3) کے بارے میں جائزہ لینا عدلیہ کے اختیار میں نہیں ہے۔ اِس قانون کے تحت 2 سے زائد بچے رکھنے والے افراد مجالس مقامی کے انتخابات میں حصہ نہیں لے سکتے۔ نلگنڈہ سے تعلق رکھنے والے شخص نے مفاد عامہ کی درخواست دائر کی جس میں کہا گیا ہے کہ حکومت کا یہ فیصلہ ناانصافی پر مبنی ہے۔ عدالت نے سوال کیاکہ یہ شخصی طور پر ایک فرد کا معاملہ دکھائی دیتا ہے جبکہ عوام سے اِس کا کوئی تعلق نہیں۔ درخواست گذار کے وکیل نے 2003 ء میں سپریم کورٹ کے ایک فیصلہ کا حوالہ دیا۔ کارگذار چیف جسٹس سجئے پال نے کہاکہ عدالت پنچایت راج قانون کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کرسکتی۔ برہمی کا اظہار کرکے چیف جسٹس نے درخواست گذار پر 25 ہزار روپئے کا جرمانہ عائد کیا ۔1