6 امیدواروں کے ناموں کا اعلان ، مزید 3 حلقوں کے ناموں پر غور و خوض
چارمینار سے میر ذوالفقار علی اور یاقوت پورہ سے جعفر حسین معراج نئے امیدوار
حیدرآباد۔3۔نومبر۔(سیاست نیوز) تلنگانہ اسمبلی انتخابات میں مجلس اتحاد المسلمین 9حلقہ جات اسمبلی سے مقابلہ کرے گی جن میں حلقہ جات اسمبلی چارمینار ‘ چندرائن گٹہ ‘ یاقوت پورہ‘ کاروان ‘ نامپلی ‘ بہادر پورہ ‘ ملک پیٹ کے علاوہ حلقہ اسمبلی جوبلی ہلز اور راجندر نگر شامل ہیں۔ صدر مجلس اتحاد المسلمین بیرسٹر اسد الدین اویسی نے آج 6 امیدواروں پر مشتمل پہلی فہرست جاری کرتے ہوئے بتایا کہ حلقہ اسمبلی چارمینار سے سابق مئیر مجلس بلدیہ حیدرآباد جناب میر ذولفقار علی ‘ حلقہ اسمبلی چندرائن گٹہ سے جناب اکبرالدین اویسی ‘ حلقہ اسمبلی کاروان سے جناب کوثر محی الدین ‘ حلقہ اسمبلی ملک پیٹ سے احمد بن عبداللہ بلعلہ ‘ یاقوت پورہ سے جناب جعفر حسین معراج کے علاوہ حلقہ اسمبلی نامپلی سے سابق مئیر مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد جناب ماجد حسین مجلس کے امیدوار ہوں گے۔ بیرسٹر اسدالدین اویسی نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ مزید 3 حلقہ جات اسمبلی بہادر پورہ‘ جوبلی ہلز اور راجندر نگر کے امیدواروں کا جلد اعلان کیا جائے گا ۔ انہوں نے پریس کانفرنس کی ابتداء اپنے دو ارکان اسمبلی جناب سید احمد پاشاہ قادری اور جناب ممتاز احمد خان کو مجوزہ انتخابات میں امیدوار نہ بنائے جانے کی اطلاع دیتے ہوئے دونوں ارکان اسمبلی کا شکریہ اداکرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے دونوں ارکان اسمبلی کو پارٹی کے فیصلہ سے واقف کرواچکے ہیں اور توقع کرتے ہیں کہ دونوں ارکان اسمبلی پارٹی کے ساتھ رہتے ہوئے پارٹی کے امیدواروں کی کامیابی کے لیے کام کریں گے۔ بیرسٹر اسدالدین اویسی نے بتایا کہ پارٹی کا واضح موقف ہے کہ جہاں ان کی پارٹی کے امیدوار ہیں وہاں ان کو کامیاب کروائے گی اور جہاں ان کے امیدوار نہیں ہیں پارٹی مسلمانوں سے اپیل کر رہی ہے کہ وہ ’’ماموں‘‘ کو ووٹ دیں۔ انہوں نے بتایا کہ ریاست تلنگانہ میں دو قومی جماعتوں کے درمیان علاقائی سیاسی جماعت موجود ہے اسی لئے اقلیتوں کو فٹبال نہیں بنایا جاسکتا۔ انہوں نے کانگریس قائد و رکن پارلیمنٹ راہول گاندھی کو حلقہ پارلیمان حیدرآباد سے مقابلہ کے چیالنج کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ وائیناڈ کے بجائے حیدرآباد سے مقابلہ کرکے دکھائیں۔ صدر مجلس اتحادالمسلمین نے پریس کانفرنس کے دوران صحافیوں کی جانب سے مسلسل کانگریس کو تنقید کا نشانہ بنائے جانے کے سلسلہ میں استفسار پر کہا کہ 2012 میں وہ یو پی اے سے علحدہ ہوچکے ہیں اور اس وقت سے ہی کانگریس پر تنقید کر رہے ہیں۔ انہوں نے بابری مسجد کی شہادت کے لئے اور ملک بھر میں فرقہ وارنہ فسادات کے لئے کانگریس کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ تلنگانہ میں بھارت راشٹرسمیتی کی موجودگی کو غنیمت تصور کرتے ہیں۔ انہوں نے پرانے شہر کی ترقی کے سلسلہ میں کئے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ عثمانیہ دواخانہ کی نئی عمارت تعمیر ہورہی ہے موسیٰ ندی پر دو نئے برجس کی تعمیر کو منظوری دی گئی ہے اسی طرح پرانے شہر میں میٹروریل کے کاموں کے شروع ہوجانے کا دعویٰ کیا۔ بیرسٹر اویسی نے بتایا کہ مزید تین حلقہ جات اسمبلی کے امیدواروں کا اعلان جلد کیا جائے گا۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ مجلس کے تمام امیدواروں کو کامیاب بنائیں۔ مجلس کی انتخابی مہم کے سلسلہ میں اسداویسی نے بتایا کہ آئندہ دویوم کے دوران مجلس کی انتخابی مہم کا شہر میں آغاز کردیا جائے گا۔بیرسٹر اسدالدین اویسی ریاست میں مسلم رائے دہندوں کے قابل لحاظ موقف والے حلقہ جات اسمبلی سے مقابلہ سے گریز کے متعلق کئے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ یہ ان کی جماعت کا فیصلہ ہے اور اگر وہ مقابلہ کرتے ہیں تو بھی اعتراض کیا جاتا ہے اور نہیں کرتے ہیں تو بھی یہ سوال کئے جا رہے ہیں۔ انہوں نے اپنی پریس کانفرنس کے دوران بی آر ایس کو دونوں قومی سیاسی جماعتوں بھارتیہ جنتا پارٹی اور کانگریس کا بہتر متبادل قراردیا۔