محکمہ اقلیتی بہبود اور وقف بورڈ میں عدم تال میل

   

جامعہ نظامیہ کی وقف جائیدادوں پر بورڈ کسی بھی قسم کی کارروائی سے قاصر
حیدرآباد۔4۔جولائی (سیاست نیوز) محکمہ اقلیتی بہبود اور تلنگانہ وقف بورڈ میں عدم تال میل کے نتیجہ میں جامعہ نظامیہ وقف جائیداد کے متعلق وقف بورڈ کسی بھی طرح کی کاروائی سے قاصر نظر آرہا ہے اور محکمہ اقلیتی بہبود کی ’رائے درگ‘ وقف جائیدادکے تحفظ کے متعلق غیر سنجیدگی کے سبب جائیداد مکمل طور پر تباہ ہونے کے دہانے پر پہنچتی جا رہی ہے۔ محکمہ اقلیتی بہبود اور نام نہاد وقف جائیدادوں کے تحفظ کا دعویٰ کرنے والے جہدکار اور بعض دیانتدار عہدیدار جو 100گز موقوفہ جائیداد کے تحفظ کو اپنے کارنامہ کے طور پر پیش کرتے ہیں وہ 510ایکڑ35 گنٹہ وقف اراضی کے تحفظ کے سلسلہ میں نہ کوئی نمائندگی پر توجہ دے رہے ہیں اور نہ ہی حکومت پر دباؤ ڈالتے ہوئے ’جامعہ نظامیہ ‘ کے تحت وقف اس جائیداد کو بچانے کے لئے کوشش کی جار ہی ہے۔ ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے مطابق تلنگانہ وقف بورڈ نے ’جامعہ نظامیہ ‘ کے تحت موجود موقوفہ جائیداد کے ہراج کے معاملہ میں اب تک بھی مکمل خاموشی اختیار کی ہوئی ہے اور محکمہ اقلیتی بہبود کی جانب سے بھی اس سلسلہ میں کوئی پیشرفت نہیں کی گئی بلکہ ریاستی حکومت کو ’وقف ‘ جائیداد کی موجودہ صورتحال سے واقف کروانے سے بھی گریز کیا جارہا ہے۔ تلنگانہ وقف بورڈ کے ریکارڈس بالخصوص UMEED پورٹل پر رائے درگ کی اراضی جو کہ سروے نمبر 83 میں موجود ہے اس اراضی کو’’مصدقہ‘‘ وقف اراضی کے زمرہ میں رکھا گیاہے اس کے باوجود تلنگانہ انڈسٹریل انفراسٹرکچر لمیٹڈ کی جانب سے جائیداد کے ہراج کے بعد پیدا ہونے والے اسٹیٹ بینک آف انڈیا کے ساتھ تنازعہ کے نتیجہ میں اراضی کا حقیقی موقف منظر عام پر آیا ہے اور مذکورہ اراضی کے ’منتخب‘ کو منظر عام پر لائے جانے کے باوجود محکمہ اقلیتی بہبود اس اراضی کے سلسلہ میں مکمل خاموشی اختیار کئے ہوئے ہے۔ بتایاجاتاہے کہ ریاستی حکومت کی ایماء پر محکمہ اقلیتی بہبود انتہائی قیمتی اس موقوفہ جائیداد کے تحفظ کے سلسلہ میں وقف بورڈ سے وضاحت طلب کرنے سے گریز کررہا ہے جبکہ تلنگانہ وقف بورڈ نے اس جائیداد کے سلسلہ میں جامع رپورٹ تیار کرتے ہوئے بعض تفصیلات ’جامعہ نظامیہ ‘ سے بھی طلب کی ہیں۔جامعہ نظامیہ کے تحت موجود اس موقوفہ جائیداد کے معاملہ میں لب کشائی سے گریز کرنے والے جہدکاروں کو چاہئے کہ وہ حکومت سے اس بات کی وضاحت طلب کریں کہ جب اسٹیٹ بینک آف انڈیا کی جانب سے اراضی پر دعویٰ کیا گیا تو اس اراضی کے متبادل اراضی دینے کا معاہدہ کرتے ہوئے معاملہ کی یکسوئی کی کوشش کی گئی جبکہ یہ جائیداد ’’وقف‘‘ ہے اور اس جائیداد کے حقیقی مالکین جو نظرانداز کرتے ہوئے اس جائیداد کے متبادل اراضیات کی حوالگی کے ذریعہ وقف بورڈ کے مالکانہ حقوق کو کمزور کرنے کی سازش کس کے ایماء پر کی جارہی ہے اور کو درپردہ ان اراضیات کو تباہ کرنے میں مصروف ہے!3