مستقل چیف ایکزیکٹیو آفیسر کے عدم تقرر اور ریکارڈ سیکشن کی عدم کشادگی کیخلاف عدالتی چارہ جوئی کرنے بورڈ کے ارکان کی مشاورت
حیدرآباد۔/23 اکٹوبر، ( سیاست نیوز) محکمہ اقلیتی بہبود اور تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ کے درمیان جاری رسہ کشی ہائی کورٹ پہنچ سکتی ہے۔ ریاستی حکومت کی جانب سے وقف بورڈ کے اُمور کے متعلق اختیار کردہ رویہ سے شدید نالاں اراکین وقف بورڈ عدالت سے رجوع ہونے پر غور کررہے ہیں کیونکہ ارکان وقف بورڈ کا احساس ہے کہ ریاستی حکومت اور محکمہ اقلیتی بہبود ریاست میں وقف بورڈ کی اہمیت کو منظم طور پر گھٹانے کی کوشش کررہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ وقف بورڈ کے ارکان جو بورڈ کی سرگرمیوں و کارکردگی کو بہتر بنانے کے حق میں ہیں وہ محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدیداروں اور حکومت سے متعدد نمائندگیوں کے باوجود مستقل چیف ایگزیکیٹو آفیسر کے عدم تقرر اور ریکارڈ سیکشن کی عدم کشادگی کے خلاف ہائی کورٹ میں رِٹ درخواست داخل کرنے کیلئے قانونی مشاورت کررہے ہیں اور آئندہ دو یوم کے دوران اس سلسلہ میں قطعی فیصلہ کرتے ہوئے ہائی کورٹ میں درخواست داخل کرتے ہوئے احکام حاصل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ کے ایک رکن نے بتایا کہ منتخبہ عوامی نمائندوں اور سیاسی قائدین کی جانب سے ریاستی حکومت کو حقیقی صورتحال سے واقف کروائے جانے کے باوجود کسی قسم کی پیش رفت نہ ہونے اور مستقل عہدیدار کے تقرر کے سلسلہ میں احکامات جاری نہ کئے جانے کی وجہ سے کارکردگی متاثر ہوچکی ہے۔ کافی غور کرنے کے بعد ایک سے زائد ارکان نے اس بات کا فیصلہ کیا ہے کہ حکومت سے کی جانے والی ناکام نمائندگیوں کے بعد وقف ایکٹ کے مطابق عدالت سے رجوع ہوتے ہوئے ایکٹ کی خلاف ورزی پر احکامات حاصل کئے جائیں۔ اراکین وقف بورڈکا الزام ہے کہ ریاستی محکمہ اقلیتی بہبود وقف بورڈ کے اُمور کو نظرانداز کرنے اور کارکردگی کو متاثر ہونے کیلئے چھوڑ دیا ہے لیکن ایسا کرنا بورڈ کی کروڑہا روپئے کی جائیدادوں کو تباہ کرنے کے مترادف ہے اسی لئے بحالت مجبوری وہ عدالت سے رجوع ہوتے ہوئے بورڈ کی کارکردگی میں بہتری لانے کے اقدامات کا جائزہ لے رہے ہیں۔م