اقلیتی بہبود باز آبادکاری کے مرکز میں تبدیل ہونے کے مترادف
حیدرآباد۔11۔جون(سیاست نیوز) محکمہ اقلیتی بہبود حکومت تلنگانہ میں پنچایت راج کے ملازمین کے انضمام کا سلسلہ اب بھی جاری ہے اور محکمہ پنچایت راج سے تعلق رکھنے والے ملازمین محکمہ اقلیتی بہبود کو بازآبادکاری کا مرکز تصور کرتے ہوئے اپنی خدمات کے انضمام کے لئے عہدیداروں کو دباؤ ڈالتے ہوئے اس بات کو یقینی بنارہے ہیں کہ وہ اس محکمہ میں خدمات حاصل کرسکیں۔ محکمہ اقلیتی بہبود میں مستقل عملہ کی عدم موجودگی اور حکومت کی جانب سے کیڈر اسٹرنتھ کی منظوری نہ ہونے کے نتیجہ میں محکمہ اقلیتی بہبود برسوں سے مستقل عملہ کے بغیرخدمات انجام دے رہا ہے اور اس صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے محکمہ اقلیتی بہبود کو اقلیتوں کی فلاح و بہبود کے بجائے پنچایت راج کے ملازمین کی فلاح و بہبود میں تبدیل کیا جاچکا ہے۔ محکمہ اقلیتی بہبود کے بیشتر دفاتر میں سفارشی مکتوبات حاصل کرتے ہوئے محکمہ اقلیتی بہبود پہنچ رہے ہیں اور عہدیداران سفارشات کو قبول کرتے ہوئے ملازمین کو ضم کرنے کے احکامات کی اجرائی پر مجبور ہورہے ہیں۔تشکیل تلنگانہ کے بعد سال 2017 میں پنچایت راج کے ملازمین کی محکمہ اقلیتی بہبود میں آمد کا سلسلہ شروع ہوا جو اب تک بھی جاری ہے ۔ ریاست میں حکومت کی تبدیلی کے 18 ماہ گذرنے کے بعد بھی محکمہ اقلیتی بہبود کی صورتحال میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے بلکہ اس محکمہ کی صورتحال مزید ابتر ہی ہوتی جارہی ہے کیونکہ نئی حکومت کی تشکیل کے بعد سے اب تک بھی محکمہ کی صورتحال کا جائزہ لینے کیلئے کوئی جائزہ اجلاس منعقد نہیں کیاگیا جس کے نتیجہ میں عہدیداروں کی من مانی کا سلسلہ جاری ہے۔محکمہ اقلیتی بہبود کے تحت خدمات انجام دینے والے دفاتر ہوں یا ضلعی سطح کے دفاتر ہوں ان تمام دفاتر میں آؤٹ سور ملازمین یا دیگر محکمہ جات میں خدمات انجام دینے والے ملازمین کو محکمہ اقلیتی بہبود میں لاتے ہوئے انہیں ذمہ داریاں تفویض کی گئی ہیں جو کہ نہ صرف اس محکمہ میں خدمات کی انجام دہی کے ذریعہ ترقی حاصل کررہے ہیں بلکہ بدعنوانیوں میں بھی ملوث ہورہے ہیں۔ محکمہ اقلیتی بہبود میں محکمہ پنچایت راج سے تعلق رکھنے والے ملازمین جو کہ جونیئر اسسٹنٹ یا سینیئراسسٹنٹ کے عہدہ پر تھے اب محکمہ اقلیتی بہبود میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے عہدوں پر ترقیات حاصل کرتے ہوئے خدمات انجام دے رہے ہیں اور ان میں بڑی تعداد غیر اقلیتی ملازمین کی ہے جو کہ تیز رفتار ترقی کے لئے محکمہ اقلیتی بہبود کا رخ کر رہے ہیں اور یہیں کے ہوکر رہنے لگے ہیں۔محکمہ پنچایت راج میں خدمات انجام دینے والے ملازمین کے کئی ملازمین کی خدمات کو محکمہ اقلیتی بہبود میں ضم کرنے کے سلسلہ میں ایک نئی فائل تیار کی گئی ہے جس میں زائد از 9 ملازمین کو محکمہ اقلیتی بہبود میں ضم کرنے کے سلسلہ میں سفارش کی گئی ہے اگر ان سفارشات کو منظوری حاصل ہوتی ہے تو ایسی صورت میں محکمہ اقلیتی بہبود کے تحت خدمات انجام دینے والے ملازمین میں محکمہ پنچایت راج کے ملازمین کی اکثریت ہوجائے گی اور ان کی من مانی کے نئے دور کا آغاز ہوجائے گا۔3