حکومت کی لاپرواہی سے مسائل برقرار ۔ آئی اے ایس عہدیداروں کی موجودگی کے باوجود تساہل
محمد مبشرالدین خرم
حیدرآباد15نومبر تلنگانہ کے محکمہ اقلیتی بہبود کے حالات کو بہتر بنانے سنجیدہ اور مستعد عہدیداروں کی ضرورت ہے لیکن حکومت کی جانب سے محکمہ اقلیتی بہبود کے متعلق غیر سنجیدہ رویہ کے سبب محکمہ کی حالت انتہائی ابتر ہے جبکہ حکومت کے پاس جملہ 162 آئی اے ایس عہدیداروں میں 10 مسلم آئی اے ایس عہدیدار ہیں جن کی خدمات حاصل کرکے محکمہ اقلیتی بہبود کی کارکردگی کو بہتر بنایا جاسکتا ہے۔ تلنگانہ میں مسلم آئی اے ایس عہدیداروں میں 1997 بیاچ کے جناب احمد ندیم پرنسپل سیکریٹری محکمہ اقلیتی بہبود‘ جناب سید علی مرتضیٰ رضوی 1999بیاچ سیکریٹری محکمہ صحت و خاندانی بہبود‘ جناب محمد عبدالعظیم 2004 بیاچ ڈپٹی سیکریٹری محکمہ اقلیتی بہبود ‘ جناب سرفراز احمد 2009 بیاچ ڈائرکٹر اکسائز‘ جناب مشرف علی فاروقی 2014 بیاچ ضلع کلکٹر نرمل‘محترمہ یاسمین باشاہ شیخ 2015 بیاچ کلکٹر ونپرتی ‘ محترمہ عائشہ مسرت خانم 2015 بیاچ ڈپٹی سیکریٹری پنچایت راج و دیہی ترقیات ‘ جناب رضوان باشاہ شیخ 2017 بیاچ اڈیشنل کلکٹرعادل آباد‘ جناب مزمل خان 2017بیاچ اڈیشنل کلکٹر سدی پیٹ و جناب فیضان احمد اسسٹنٹ کلکٹر سدی پیٹ 2021بیاچ شامل ہیں۔پرنسپل سیکریٹری محکمہ اقلیتی بہبود کی کارکردگی سے مسلم منتخبہ نمائندوں کے علاوہ نامزد عہدوں پر فائز اقلیتی نمائندوں میں ناراضگی ہے کیونکہ وہ بہ آسانی منتخبہ نمائندوں کیلئے بھی دستیاب نہیں ہیں اور نہ ہی محکمہ کی کارکردگی کو بہتر بنانے کوئی اہم پیشرفت گذشتہ چند برسوں میںہوئی ہے۔ جناب سید علی مرتضیٰ رضوی سیکریٹری صحت کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں اور ان کی خدمات سے کسی کو کوئی شکایت نہیں ہے۔ جناب محمد عبدالعظیم آئی اے ایس جنہیں ڈپٹی سیکریٹری محکمہ اقلیتی بہبود کی ذمہ داری دی گئی وہ 2004 بیاچ سے تعلق رکھتے ہیں اور ان سے جونیئر کئی آئی اے ایس عہدیداروں کو سیکریٹری اور اسپیشل سیکریٹری کے عہدہ پر ترقی دے کر اہم ذمہ داریوں پر فائز کیا گیا ہے جبکہ وہ محکمہ اقلیتی بہبود میں ہی ڈپٹی سیکریٹری عہدہ پر مامور ہیں۔2009 بیاچ کے آئی اے ایس عہدیدار جناب سرفراز احمد ڈائرکٹر اکسائز ہیں جبکہ ان کے جونئیر عہدیداروں کو اسپیشل سیکریٹری اور سیکریٹری عہدوں کی ذمہ داری تفویض کی گئی ہے۔جناب مشرف علی فاروقی کلکٹر نرمل کے عہدہ پر فائز ہیں جبکہ محترمہ عائشہ مسرت خانم ڈپٹی سیکریٹری محکمہ پنچایت راج میں خدمات انجام دے رہی ہیں ۔ حکومت اگر محکمہ اقلیتی بہبود کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے حق میں ہے تو ان آئی اے ایس عہدیداروں کی خدمات کو محکمہ اقلیتی بہبود کیلئے فراہم کرکے حالات کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔ جناب سرفراز احمد یا جناب احمد ندیم کو محکمہ اقلیتی بہبود کے سیکریٹری کی ذمہ داری تفویض کی جاسکتی ہے جبکہ مسلم آئی اے ایس عہدیداروں کی فہرست میں شامل کلکٹر رینک عہدیداروں کو ڈائرکٹر محکمہ اقلیتی بہبود کی ذمہ داری حوالہ کرکے کارکردگی کو بہتر بنایا جاسکتا ہے ۔ مشرف علی فاروقی ‘ محترمہ عائشہ خانم کے علاوہ محترمہ یاسمین باشاہ شیخ کو ڈائرکٹر محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدہ کی ذمہ داری تفویض کئے جانے پر یہ عہدیدار محکمہ کے حالات کو بہتر بنانے اپنی صلاحیتوںکا مظاہرہ کرسکتے ہیں۔ محکمہ میں برسرکار عہدیداروں سے منتخبہ عوامی نمائندوں کی ناراضگی کی بنیادی وجہ ان کے رویہ اور محکمہ فینانس کے علادہ دیگر متعلقہ محکمہ جات کے ہمراہ ان کے تال میل نہ ہونے سے بجٹ کو نقصان ہے ۔علاوہ ازیں حکومت بالخصوص وزیر اقلیتی بہبود کی جانب سے محکمہ اقلیتی بہبود کو عہدیداروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیئے جانے سے مسائل کی سماعت کرنے والا کوئی نہیں ہے کیونکہ عہدیدار مسائل کی سماعت کیلئے دستیاب نہیں ہیں اور جو شکایات ان تک پہنچتی ہیں انہیں نظرانداز کردیا جاتا ہے کیونکہ وہ ان شکایات کی یکسوئی کے متعلق جاننے دستیاب نہیں ہوتے اور نہ ہی وزیر موصوف کو محکمہ کی کارکردگی کو بہتر بنانے سے کوئی دلچسپی ہے۔جملہ 162 آئی اے ایس عہدیداروں میں 8 آئی اے ایس عہدیدار جن کا تعلق تلنگانہ کیڈرسے ہے وہ مرکز کے محکمہ جات میں برسر کار ہیں۔