مختصر مدتی CPR انسٹرکٹر کورس کی ضرورت

   

نوجوانوں کو مواقع مل سکتے ہیں۔ زندگیوں کا تحفظ بھی ممکن
حیدرآباد 10 مارچ(سیاست نیوز) ریاست میں دل دورہ کے واقعات کے دوران محکمہ صحت کی جانب سے CPR کی تربیت فراہم کرنے پر توجہ کی جا رہی ہے جو کہ لائق ستائش ہے لیکن محکمہ پولیس کے علاوہ اگر حکومت کی جانب سے کالجس کے طلبہ اور طبی عملہ کو بھی CPR کی تربیت دے کر انہیں مستند CPR انسٹرکٹر قرار دیا جاتا ہے تو وہ بلا جھجھک کسی بھی مریض کو CPR دیتے ہوئے زندگی بچا سکتے ہیں۔ محکمہ صحت کی جانب سے CPRکی جو تربیت فراہم کی جا رہی ہے اسی طرح کی تربیت مختلف اداروں ‘ کارپوریٹ دواخانوں اور غیر سرکاری تنظیموں کی جانب سے بھی فراہم کی جاتی رہی ہیں اور کئی شہریوں کو یہ تربیت فراہم کی جاچکی ہے لیکن جب ضرورت ہوتی ہے وہ خود گھبراہٹ کا شکار ہونے کے سبب CPR نہیں دے پاتے اسی لئے اگر سرکاری طور پر مستند CPR انسٹرکٹر مختصر مدتی کورس کا آغاز کرکے کالج طلبہ ‘ طبی عملہ ‘ سرکاری عملہ کے علاوہ دیگر کو یہ تربیت دی جائے تو کئی زندگیاں بچائی جاسکتی ہیں ۔ مریض کو دل کا دورہ پڑتے ہی سانس رک جاتی ہے اور اگر فوری سانس کی بحالی کیلئے CPR دیا جاتا ہے تو مریض کی زندگی بچائی جاسکتی ہے۔حالیہ عرصہ میں ٹریفک پولیس جوانوں اور ہوم گارڈس کی جانب سے CPR دیتے ہوئے ابتدائی طبی امداد پہنچانے سے محفوظ رہنے والی زندگیوں کو دیکھتے ہوئے سرکاری طور پر CPR کی تربیت فراہم کی جار ہی ہے لیکن گھر میں یا گلی کوچوں میں ٹریفک یا پولیس جوان نہیں ہوتے اسی لئے چھوٹے کلینکس ‘ نرسنگ ہومس میں برسر کار عملہ اور میڈیکل شاپس عملہ کو اگر یہ تربیت فراہم کی جاتی ہے تو اس کے مزید بہتر نتائج برآمد ہوسکتے ہیںکیونکہ ہنگامی صورتحال میں مریض قریبی دستیاب دواخانہ پہنچتا ہے۔