چیف منسٹر ریونت ریڈی کی مرکزی وزیر جیوتر آدتیہ سندھیا سے نمائندگی
حیدرآباد۔23۔اگسٹ(سیاست نیوز) چیف منسٹر تلنگانہ اے ریونت ریڈی نے ڈپٹی چیف منسٹر و ریاستی وزیر فینانس مسٹر ملو بھٹی وکرمارک کے ہمراہ مرکزی وزیر مواصلات مسٹر جیوتر آدتیہ سندھیاسے ملاقات کرتے ہوئے ریاستی حکومت کی جانب سے بھارت نیٹ تیسرے مرحلہ میں تبدیل کرنے کے لئے پیش کئے گئے تفصیلی پراجکٹ کو منظوری دینے کا مطالبہ کیا۔ مرکزی وزیر سے کی گئی ملاقات کے دوران چیف منسٹر نے کہا کہ ٹی فائبر کا مقصد فائبر آپٹکس کے ذریعہ منڈلوں اور اضلاع تک انٹرنیٹ کی سہولت کو پہنچانے کے اقدامات کو یقینی بنانا ہے ۔مرکزی وزیر سے ملاقات کے دوران چیف منسٹر تلنگانہ نے بتایا کہ اس پراجکٹ کو منظوری حاصل ہونے پر 65000 ہزار سرکاری اداروں کی خدمات جی ٹو جی اور جی ٹو سی کے ذریعہ فراہم کی جائیں گی۔چیف منسٹر نے بتایا کہ اس پراجکٹ کو جس انداز میں تیار کیاگیا ہے اس کے ذریعہ دیہی علاقوں میں 63لاکھ مکانات اور شہری علاقوں میں 30لاکھ مکانات کو ماہانہ 300 روپئے میں کیبل ٹی وی ‘ انٹرنیٹ اور ای۔ ایجوکیشن فراہم کی جاسکے گی۔انہو ںنے مرکزی وزیر سے خواہش کی کہ وہ ٹی فائبر کیلئے طویل مدتی قرض کی فراہمی کے اقدامات کے ذریعہ اس ڈی پی آر کو منظوری دینے کے اقدامات کریں۔ انہو ںنے مسٹر جیوتر آدتیہ سندھیا کو حوالہ کردہ مکتوب میں 1779 کروڑ طویل مدتی خرچ کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ این ایف او این کی جانب سے بھارت نیٹ کے پہلے مرحلہ کو تیسرے مرحلہ میں تبدیل کرنے کے فیصلہ کے بعد ریاستی حکومت کی جانب سے تفصیلی پراجکٹ رپورٹ تیار کرتے ہوئے مرکزکو روانہ کی جاچکی ہے اور اگر مرکزی حکومت کی جانب سے اس پراجکٹ کو منظوری دی جاتی ہے تو ایسی صورت میں ریاست تلنگانہ میں اس پر عمل آوری کو یقینی بنایا جاسکے گا ۔3