مرکز پر ریاستوں کو معاشی کمزور کرنے کا الزام ‘ بیروزگاری میں اضافہ پر تشویش

   

ملک میں نفرت کے ماحول کو فروغ ، آج سے 10لاکھ نئے آسرا پنشن کی منظور ، تاریخی گولکنڈہ قلعہ میں رسم پرچم کشائی ‘چیف منسٹر کے سی آر کا خطاب
حیدرآباد ۔ 15 اگست ( سیاست نیوز) چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر نے بی جے پی کی زیر قیادت مرکزی حکومت پر ملک میں نفرت کے ماحول کو فروغ دینے ریاستوں کو معاشی طور پر کمزور کرنے کے الزامات عائد کرتے ہوئے روپیہ کی قدر گھٹ جانے اور شرح بیروزگاری میں اضافہ ہوجانے پر تشویش کا اظہار کیا ۔ تلنگانہ میں امن و امان کو نقصان پہنچانے کیلئے چند طاقتوں کی جانب سے سازش کرنے کا الزام عائد کیا ۔ آج سے ریاست میں مزید 10لاکھ نئے آسرا پنشن جاری کرنے کا اعلان کیا ۔ آزادی کے 75 ویں سال کے موقع پر تاریخی گولکنڈہ پر قومی پرچم لہرانے کے بعد عوام سے خطاب کرتے ہوئے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے متحدہ آندھراپردیش میں تلنگانہ کے ساتھ کی گئی ناانصافی اور علحدہ تلنگانہ کی تشکیل کے بعد مختلف شعبوں میں ترقی اور عوام کی فلاح و بہبود پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ مختصر عرصہ میں تلنگانہ نے ملک کی بڑی ریاستوں سے شاندار مظاہرہ کیا ۔ ترقی و فلاح و بہبود کے معاملہ میں مثالی ریاست بن کر ابھرا ہے ۔ ملک کی آزادی کے ڈائمنڈ جوبلی جشن کے موقع پر آج سے ریاست کے مزید 10لاکھ افراد کو نئے آسرا پنشن جاری کئے جائیں گے ، اس سے ریاست میں آسرا پنشن حاصل کرنے والوں کی تعداد 46لاکھ ہوجائیں گی ۔ چیف منسٹر نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی نے ٹیم انڈیا کے طور پر کام کرنے اور ریاستوں کے تعاون سے ملک کو ترقی دینے کا اعلان کیا تھا لیکن اس کے برخلاف کام کیا جارہا ہے اور جمہوریت کی روح کو نقصان پہنچایا جارہا ہے ۔ ریاستوں کو معاشی طور پر کمزور کرنے کی سازش کی جارہی ہے ۔ مرکز کو ٹیکس کی شکل میں ملنے والی آمدنی کا 41 فیصد حصہ ریاستوں کو فراہم کیا جانا چاہیئے لیکن 11.4 فیصد آمدنی کو گھٹا کر صرف 29.6 فیصد آمدنی ریاستوں کو فراہم کی جارہی ہے ۔ ریاستیں ایف آر بی ایم کے تحت قرض حاصل کررہے ہیں ۔ اس میں بھی تحدیدات عائد کرتے ہوئے ریاستوں کو نقصان پنچایا جارہا ہے ۔ غریب اور پسماندہ طبقات کو فراہم کی جانے والی اسکیمات کو مفت سے جوڑتے ہوئے ان اسکیمات سے غریب عوام کو محروم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ متنازعہ زرعی قوانین نافذ کرکے کسانوں کو پریشان کیا گیا ، کسان احتجاج پر وزیراعظم نے کسانوں سے معذرت خواہی کی اور ان قوانین سے دستبرداری اختیار کی ہے ۔ معصوم بچوں کے پینے والے دودھ کے علاوہ شمشان گھاٹ کی تعمیرات پر جی ایس ٹی نافذ کردیا گیا ہے ۔ مرکزی حکومت کے غلط فیصلوں کی وجہ سے ملک میں معاشی بحران پیدا ہونے کے امکانات پیدا ہوگئے ہیں ۔ روپیہ کی قدر دن بہ دن گھٹ رہی ہے ۔ کارپوریٹ ادارو ں کے لاکھوں کروڑہا روپئے کے قرض معاف کرکے اس کی حوصلہ افزائی سے جوڑا جارہا ہے ، کسانوں کے قرض معاف کرنے پر اعتراض کرتے ہوئے اس کو ’ مفت ‘ سے جوڑا جارہا ہے ۔ چیف منسٹر کے سی آر نے ملک کی آزادی کیلئے قربانیاں دینے والے مجاہدین کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ مودی حکومت کی اسکیمات اور پالیسیوں سیمجاہدین آزادی کی روح کو تکلیف پہنچ رہی ہوں گی ۔ سارے ملک میں گنگا جمنی تہذیب کو فروغ دینے کے بجائے سماج کو تقسیم کرنے کی پالیسیوں پر عمل کیا جارہا ہے ۔ مذہبی جذبات کو فروغ دیتے ہوئے گنگا جمنا تہذیب کو نقصان پہنچایا جارہا ہے ۔ ایسی طاقتوں اور سازشوں سے ملک کے نوجوانوں ، ماہرین اور سماج کے تمام طبقات کو چوکنا رہنے کی ضرورت ہے ۔ چند طاقتیں ریاست کے امن و امان کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ تاہم تلنگانہ حکومت ایسی طاقتوں کے ناپاک عزائم کو کبھی کامیاب ہونے نہیں دے گی ۔ ریاست میں لا اینڈ آڈر پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا ۔ ریاست کو تمام شعبوں میں ترقی دینے اور ملک کی مثالی ریاست میں تبدیل کرنے اقدامات کئے جارہے ہیں ۔ ریاست تلنگانہ کو معاشی طور پر مستحکم کرنے کیلئے بڑے پیمانے پر اقدامات کئے جارہے ہیں مگر ریاست کے قرض پر گمراہ کن تشہیر کی جارہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت نے سال 2019-20 میں تلنگانہ 2لاکھ 25ہزار 45کروڑ روپئے قرض ہونے کا دعویٰ کیا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ علحدہ تلگانہ کی تشکیل کے موقع پر تلنگانہ کے حصہ میں 75 ہزار 577 کروڑ روپئے کا قرض ورثہ میں حاصل ہوا تھا جبکہ تلنگانہ حکومت نے صرف ایک لاکھ 49 ہزار 873 کروڑ روپئے کا قرض حاصل کیا ہے ۔ تمام قرض ریاست کے پراجکٹس کی تعمیرات ، بنیادی سہولتوں کی فراہمی پر خرچ کئے گئے ہیں ۔ ملک کے 28 ریاستوں میں 22ریاستوں سے کم تلنگانہ نے قرض حاصل کیا ہے ۔ تلنگانہ حکومت نے ڈائمنڈ جوبلی آزادی تقاریب جشن کے موقع پر بافندوں کو پانچ لاکھ روپئے کا انشورنس فراہم کیا ۔ اگر بافندوں کی موت واقع ہوتی ہے تو ان کے ارکان خاندان کو 5لاکھ روپئے کی انشورنس رقم حاصل ہوگی ۔ علحدہ تلنگانہ کی تشکیل کے بعد صنعتوں کیلئے پاور ہالی ڈے کو ختم کردیا گیا ،کسانوں کو 24 گھنٹے مفت برقی اور ریاست کے عوام کو بلاوقفہ معیاری برقی سربراہ کی جا رہی ہے ۔ 7 سال کے دوران تلنگانہ کی آمدنی میں 3 گنا اضافہ ہوا ہے ۔ تلنگانہ 12.01 فیصد کی پیداواری کی شرح نمو کے ساتھ صنعتی ترقی میں سرفہرس ہے ۔ 26.14 فیصد شرح نمو کے ساتھ آئی ٹی سیکٹر کی برآمدات کے لحاظ سے ملک کی سرفہرست ریاست ہے ۔ ہریتا ہارم اسکیم کے مثبت نتائج برآمد ہورہے ہیں ، قلیل عرصہ میں تلنگانہ ایک مضبوط معاشی طاقت کے طورپر ابھرا ہے اور قوم کی تعمیر میں ایک مضبوط شراکت دار بن گیا ہے ۔ سال 2014-15 میں ریاست کی آمدنی 62 ہزار کروڑ روپئے تھی جو سال 2021 میں بڑھ کر ایک لاکھ 84 ہزار کروڑ تک پہنچ گئی ہے ۔ چیف منسٹر نے کہا کہ تلنگانہ گذشتہ 7سال کے دوران ٹیکس آمدنی ( ایس او ٹی آر ) میں 11.5 فیصد کی شرح نمو کے ساتھ ملک میں سرفہرست ہے ۔ کاگ رپورٹ میں اس کا انکشاف ہوا ہے ۔ جی ایس ٹی میں 127فیصد کا اضافہ ہوا ہے ۔ سال 2014-15 تلنگانہ کی جی ایس ٹی 5لاکھ 5ہزار 849کروڑ روپئے تھی سال 2021-22 میں 11لاکھ 48ہزار 115 کروڑ روپئے تک پہنچ گیا ۔ن