کے سی آر حکومت کا کارنامہ، کانگریس قائدین کے منہ پر طمانچہ
حیدرآباد ۔ یکم ؍ فبروری (سیاست نیوز) بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی آر نے مرکز کی جانب سے سال 2024-25ء کی جاری کردہ اکنامک سروے رپورٹ کو کے سی آر حکومت کی کارکردگی کا ثبوت اور کانگریس قائدین کے منہ پر طمانچہ قرار دیا۔ کے ٹی آر نے اس پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بی آر ایس کے 10 سالہ دورحکومت میں ریاست کی ترقی، بنیادی سہولتوں کی فراہمی کیلئے بڑے پیمانے پر اقدامات کئے گئے ہیں۔ کانگریس حکومت تلنگانہ کی معاشی صورتحال پر جھوٹا پروپگنڈہ کررہی ہے۔ مرکز کے جاری کردہ اقتصادی سروے نے اس کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔ تلنگانہ ریاست 88 فیصد ٹیکسوں کی وصولی کے ساتھ ملک بھر میں سرفہرست مقام حاصل کیا ہے۔ کے سی آر نے ریاست کی معیشت کو مستحکم کرنے کیلئے جو اقدامات کئے تھے، اس کے آج مثبت نتائج برآمد ہورہے ہیں۔ یہ رپورٹ تلنگانہ کا معاشی نظام مضبوط و مستحکم ہونے کا ثبوت ہے۔ تلنگانہ کے زرعی شعبہ کو 90 فیصد پانی سیراب کیا جارہا ہے۔ کے سی آر نے کالیشورم کے بشمول کئی اہم آبپاشی پراجکٹس تعمیر کئے جس کی وجہ سے یہ ممکن ہوپایا ہے اور ملک میں سب سے زیادہ تلنگانہ کاشت ہورہی ہے مگر کانگریس قائدین کی جانب سے کالیشورم پراجکٹ کے خلاف گمراہ کن مہم چلائی جارہی ہے۔ کے ٹی آر نے کہا کہ سال 2017ء میں گلوبر انٹرپرینر شپ سمٹ (جی ای ایس) میں بی آر ایس حکومت نے (وی ہب) کا اعلان کیا تھا جو آج ملک کیلئے رول ماڈل ثابت ہورہا ہے جسسے ملک کے تجارتی سرگرمیوں میں خواتین کی شراکت داری میں اضافہ ہوگیا ہے۔ سابق چیف منسٹر کے سی آر نے دیہی علاقوں کے عوام کو نلوں کے ذریعہ صاف ستھرا پینے کا پانی سربراہ کرنے کیلئے باوقار مشین بھاگیرتا اسکیم کا آغاز کیا تھا، جس سے دیہی علاقوں کو صدفیصد پینے کا پانی سربراہ کیا جارہا ہے۔ 2