مسلمانوں کے صبر کا امتحان نہ لیا جائے۔ حکومت کی خاموشی سے شکوک و شبہات میں اضافہ۔ یونائیٹیڈ مسلم فورم کا بیان
حیدرآباد: یونائٹیڈ مسلم فورم نے کہا ہے کہ سکریٹریٹ میں مساجد کی شہادت کے تین ہفتہ گذر جانے کے بعد بھی ان مساجد کی تعمیر کے سلسلہ میں کوئی پیشرفت نہ ہونے پر مسلمانوں کی بے چینی اور غم و غصہ میں بے انتہا اضافہ ہوا ہے ۔ دونوں مساجد کے مسئلہ پر علماء ‘ مشائخ اور قائدین کے بیان کے بعد چیف منسٹر کے چندر شیکھر راو نے اظہار تاسف کیا تھا ‘لیکن اس وقت اکابرین کی جانب سے یہ بات واضح کردی گئی تھی کہ مسلمان صرف اظہار پشیمانی کو قبول نہیں کریں گے ۔ شہید مساجد مقررہ مدت میں دوبارہ اسی مقام پر تعمیر کی جائیں ‘ لیکن حکومت کی خاموشی سے ایسا محسوس ہورہا ہے کہ موجودہ حکومت بھی کانگریس کی روش اختیار کرچکی ہے۔ موجودہ حکومت کے پاس بھی مساجد کے تقدس اور مسلمانوں کے جذبات اور احساسات کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ اگر ایسا ہے تو پھر مسلمان اپنی عبادت گاہوں کی بازیابی کیلئے جمہوری احتجاجی لائحہ عمل کو قطعیت دیں گے ۔ اس حساس مسئلہ پر مسلمانوں کے صبر کا امتحان نہ لیا جائے۔ چیف منسٹر اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ مسلمان کبھی بھی مسجد کے مسئلہ پر خاموش نہیں بیٹھ سکتے۔ کانگریس نے ایک غلطی کی تھی جس کو آج تک مسلمانوں کے غیض و غضب کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ ٹی آر ایس کے ساتھ اشتراک کیا گیا تو اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ مسلمان مساجد کے مسئلہ پر بھی خاموش ہوجائیں گے۔ مساجد اللہ کا گھر ہیں ‘ ایک جگہ اگر مسجد تعمیر کردی جاتی ہے تو وہ تا قیامت مسجد ہوگی۔
فورم کے ذمہ داران مولانا محمد رحیم الدین انصاری (صدر)‘ مولانا سید شاہ علی اکبر نظام الدین حسینی صابری ‘ مولانا سید محمد قبول بادشاہ قادری شطاری ‘ مولانا میر قطب الدین علی چشتی ‘ مولانا شاہ محمد جمال الرحمن مفتاحی ‘ مولانا مفتی سید صادق محی الدین فہیم ‘ مولانا خالد سیف اللہ رحمانی‘ جناب ضیاء الدین نیئر ‘ جناب سیدمنیر الدین مختار (جنرل سکریٹری) ‘ مولانا سید شاہ ظہیر الدین علی صوفی قادری ‘مولانا سید مسعود حسین مجتہدی ‘ مولانا سید تقی رضا عابدی ‘ مولانا سید صفی احمد مدنی ‘ مولانا اکرم پاشاہ قادری تخت نشین ‘ مولانا سید شاہ فضل اللہ قادری الموسوی ‘ مولانا ظفر احمد جمیل حسامی ‘ مولانا عبدالغفار خان سلامی ‘ مولانا زین العابدین انصاری ‘ ڈاکٹر بابر پاشاہ ‘ ڈاکٹر مشتاق علی اور جناب محمد شفیع الدین ایڈوکیٹ نے کہا کہ عدالت کے احکام پر میڈیا کو سکریٹریٹ کی انہدامی کاروائی کا مشاہدہ کروایا گیا ‘ جہاں میڈیا کے نمائندوں کو اپنی مرضی سے کوریج کی اجازت نہیں دی گئی ‘سارا علاقہ ایک چٹیل میدان بن گیا۔ دو مساجد اور ایک مندر جسے منہدم کردیا گیا کا نام و نشان نہیں ہے‘ نہ ہی ان مذہبی مقامات کی کوئی علحدہ شناخت رکھی گئی۔ فورم کے ذمہ داران نے حکومت پر زور دیا کہ وہ نئے سکریٹریٹ کے نقشہ میں منہدم کردہ عبادت گاہوں کی شناخت کروائے۔ عبادت گاہوں کا معاملہ عوام کے مذہبی جذبات سے تعلق رکھتا ہے۔ اس پر حکومت کی عدم وضاحت اور مسلسل خاموشی شکوک و شبہات پیدا کررہی ہے۔ بیرسٹر اسد الدین اویسی صدر مجلس اتحاد المسلمین و رکن پارلیمنٹ حیدرآباد ‘ جناب اکبر الدین اویسی قائد مجلس مقننہ پارٹی ‘ علمائے کرام ‘ مفتیان عظام مشائخ ذی شان ‘ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ ‘ مختلف تنظیموں ‘ اداروں اور ممتاز شخصیتوں نے اس حساس مسئلہ پر حکومت کو توجہ دلائی ہے لیکن حکومت کی غفلت عوامی جذبات کو مزید مجروح کرکے انہیں ابھار سکتی ہے۔ قبل اس کے کہ حالات کوئی دوسرا رخ اختیار کریں حکومت ان شہید کردہ مساجد کو ان کے حقیقی مقام پر دوبارہ تعمیر کرنے کا واضح اعلان کرے۔