مساجد کو غیر قانونی بتا کر کارروائی کی مہم مناسب نہیں : مایاوتی

   

لکھنؤ۔ 5 ستمبر (یو این آئی) بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کی صدر مایاوتی نے اتر پردیش میں مساجد سمیت مذہبی مقامات کے خلاف جاری کارروائی پر ریاستی حکومت پر سوال اٹھائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ضلع سہارنپور کی مسجد سمیت پوری ریاست میں آباد مساجد کو مبینہ طور پر غیر قانونی قرار دے کر انہیں منہدم کرنے کی جو سرکاری مہم چل رہی ہے ، وہ مناسب نہیں ہے ۔ حکومت کو ایسے منفی حالات سے بچنے کے لیے اس پر فوری روک لگاکر حل کے دیگر طریقہ اختیار کرنے چاہئیں۔ مایاوتی نے ہفتہ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر کی گئی پوسٹ میں کہا کہ آئینی اور سیکولر حکومت کی ذمہ داری ہے کہ تمام مذاہب کو ماننے والے لوگوں اور ان کے مذہبی مقامات کے یکساں طور پر احترام اور تحفظ کو یقینی بنائے ۔ انہوں نے کہا کہ اسلام مذہب میں مساجد ہر روز عبادت اور دن میں کئی بار جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کا اہم اور لازمی حصہ ہیں۔ اس لیے ہندوستانی روایت کے مطابق ان کا احترام کرنا ملک اور وسیع تر عوامی مفاد میں ضروری ہے ۔ بی ایس پی سربراہ نے کہا کہ قواعد و قوانین کی مناسب پیروی کیے بغیر کسی بھی ملزم کا مکان منہدم کرکے اس کے پورے خاندان کو اجتماعی طور پر سزا دے کر بے گھر کرنے کی کارروائی سے لوگ کافی پریشان ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے معاملات میں بی ایس پی حکومت کی طرح ’قانون کے ذریعہ قانون کی حکمرانی‘ والا طرز عمل اپنانا ضروری ہے ۔انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں صرف حکومت ہی نہیں بلکہ عدالت کو بھی مناسب توجہ دینی چاہیے ۔
تاہم موجودہ حالات میں تمام لوگوں سے خوش گوار ماحول برقرار رکھنے کی اپیل کرتے ہوئے مایاوتی نے کہا کہ ان کی پارٹی بھی یہی چاہتی ہے ۔