روزنامہ سیاست میں ماحول سازی پر رپورٹ کی اشاعت کے بعد اسد الدین اویسی اور محمد مسیح اللہ خاں کا ردعمل
حیدرآباد۔21۔ستمبر(سیاست نیوز) روزنامہ سیاست نے 16 ستمبر کے شمارے میں وقف ایکٹ کے خصوصی موقف کو ختم کرنے کے سلسلہ میں ماحول سازی کے متعلق ایک خصوصی رپورٹ شائع کی تھی کہ کس طرح سے مسلمانوں کی املاک کو نشانہ بنانے کے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ حکومت اترپردیش نے دینی مدارس کے سروے کے بعد ریاستی حکومت نے درج اوقاف جائیدادوں کے سروے کا اعلان کیا ہے۔ ملک میں مسلمانوں کا عرصہ حیات تنگ کرنے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کے تحت اب ان کی اوقافی املاک کو نشانہ بنایاجانے لگا ہے اور چیف منسٹر اترپردیش یوگی آدتیہ ناتھ نے ریاست کے تمام اوقافی جائیدادوں کے سروے اور 1989کے علاوہ وقف ایکٹ 1995کے اندراجات کی تحقیقات کروانے کے احکام جاری کئے ہیں۔حکومت اترپردیش نے بنجر اراضیات کے علاوہ تالاب ‘ ندی ‘ کنٹہ اور پشتہ کی اراضیات کے ساتھ صحراو ریتیلے علاقوں کے درج اوقاف ہونے کی تحقیقات کروانے کا فیصلہ کرتے ہوئے حکومت اترپردیش کے محکمہ اقلیتی بہبود‘ وقف سروے کمشنر کے علاوہ سنی و شیعہ وقف بورڈ کے چیف ایکزیکیٹیو آفیسرس کو مکتوبات روانہ کردیئے ہیں۔اس کے علاوہ حکومت نے اتر پردیش کے تمام ضلع کلکٹرس اور انتظامیہ کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے ان کے اضلاع میں موجود درج اوقاف جائیدادوں کے تفصیلی سروے کے ذریعہ رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی ہے۔ حکومت اترپردیش کے ڈپٹی سیکریٹری شکیل احمد کی جانب سے جاری کئے گئے مکتوب میں چیف منسٹر یوگی آدتیہ ناتھ کے ان احکامات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ اندرون ایک ماہ تمام اوقافی اراضیات کا سروے مکمل کرتے ہوئے رپورٹ پیش کی جائے۔ ملک بھر میں موجود اوقافی اداروں کا جائزہ لیا جائے تو سب سے زیادہ اوقافی ادارے ریاست اترپردیش میں ہیں جن کی تعداد 1لاکھ 24ہزار85ہے۔مرکزی حکومت کے وزارت اقلیتی امور کی ویب سائٹ ویب اسیٹ مینجمنٹ سسٹم آف انڈیا پر موجود تفصیلات کے مطابق ان جائیدادوں کا آن لائن ریکارڈ موجود ہے۔ چیف منسٹر اترپردیش کی جانب سے اوقافی جائیدادوں کے اندراج اور ان کے وقف بورڈ میں رجسٹرڈ ہونے کی تحقیقات کے ساتھ ہی کئی شبہات پیدا ہونے لگے ہیں اور کہا جا رہاہے کہ اوقافی جائیدادوں کے سروے کے نام پر انہیں وقف کے ریکارڈس سے حذف کرنے کے اقدامات کئے جاسکتے ہیں۔ حکومت اترپردیش کو گذشتہ چند ہفتوں سے دینی مدارس کے سروے کے سبب تنقیدوں کا سامنا کرنا پڑرہا تھا لیکن مولانا ارشد مدنی نے دینی مدارس کے سروے میں تعاون کی مدارس کے ذمہ داروں سے اپیل کرتے ہوئے سروے کی راہ ہموار کردی۔ اب حکومت کی جانب سے ریاست میں موجود اوقافی جائیدادوں کے سروے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ قومی ٹیلی ویژن چیانلس کے ذریعہ مسلمانوں کی اوقافی اراضیات اور وقف اراضیات و بورڈ کو وقف ایکٹ 1995 میں حاصل خصوصی موقف کوختم کرنے کی مہم چلائی جارہی ہے ایسے میں حکومت اترپردیش کے ان احکامات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی اقتدار والی ریاستوں میں منصوبہ بند طریقہ سے مسلمانوں کی املاک کو صرف غیر سرکاری طور پر نہیں بلکہ سرکاری طور پر بھی نشانہ بنایا جانے لگا ہے۔ یوگی آدتیہ ناتھ کے اس فیصلہ پر رکن پارلیمنٹ بیرسٹر اسدالدین اویسی نے شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اترپردیش حکومت منصوبہ بند انداز میں مسلمانوں کی جائیدادوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ بیرسٹراویسی نے وقف سروے کو ’بڑا این آر سی ‘ قرار دیا۔انہو ںنے کہا کہ اگر کسی نے غیر قانونی طریقہ سے جائیدادوں کو وقف کروایا ہے تو حکومت عدالت یا ٹریبونل سے رجوع ہوتے ہوئے ان جائیدادوں کو حاصل کرسکتی ہے لیکن دینی مدارس کے بعد اوقافی جائیدادوں کو یوگی حکومت نشانہ بناتے ہوئے ان جائیدادوں کو چھیننے کی کوشش کر رہی ہے۔ رکن پارلیمنٹ حیدرآباد نے یوگی آدتیہ ناتھ کی اس کوشش کو مخصوص طبقہ کے خلاف کاروائی اور منصوبہ بند انداز میں ان کی جائیدادوں سے انہیں محروم کرنے کی سازش قرار دیا۔سابق چیف منسٹر اترپردیش اکھلیش یادو نے بھی حکومت اترپردیش کے فیصلہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے مخالف وقف اور مسلمانو ںکی جائیدادوں کو چھیننے کی کوشش قرار دیا۔جناب محمد مسیح اللہ خان صدرنشین تلنگانہ تلنگانہ وقف بورڈ نے اترپردیش حکومت کے فیصلہ کو سازش قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان احکام کے ذریعہ یوگی آدتیہ ناتھ حکومت مسلم جائیدادوں میں بے قاعدگیوں اور بدعنوانیوں کے الزامات کے ذریعہ وقف ایکٹ 1995 کو برخواست کروانے کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔صدرنشین وقف بورڈ نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی ان کوششوں کو ناکام بنانے کے لئے ملک بھر میں کوشش کی جانی چاہئے ۔م