کے سی آر سے محمد علی شبیر کا سوال، کاماریڈی سے ریونت ریڈی کی کامیابی یقینی
حیدرآباد۔/10 نومبر، ( سیاست نیوز) سابق وزیر محمد علی شبیر نے انکشاف کیاکہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کے آبائی گاؤں کے عوام نے کانگریس کی تائید کا فیصلہ کیا ہے۔ چیف منسٹر کے سی آر نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کے آباء و اجداد کا تعلق کاماریڈی کے کونا پور گاؤں سے ہے لہذا وہ اپنے آبائی گاؤں کی ترقی کیلئے کاماریڈی سے مقابلہ کررہے ہیں۔ محمد علی شبیر نے کاماریڈی میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کونا پور سے تعلق رکھنے والے افراد نے اپنی محنت کی کمائی سے 11000 روپئے جمع کرتے ہوئے پرچہ نامزدگی کے اخراجات کے طور پر ریونت ریڈی کے حوالے کیا ہے۔ کے سی آر جس گاؤں کو اپنا آبائی گاؤں قرار دے رہے ہیں وہاں کے عوام کا کہنا ہے کہ اچانک آبائی گاؤں کی یاد کیوں آئی اور آج تک کے سی آر نے گاؤں کا دورہ نہیں کیا۔ کونا پور کے عوام کانگریس پارٹی کے ساتھ ہیں جس کا عطیات کے ذریعہ اظہار ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر نے کاماریڈی سے جو وعدے کئے تھے انہیں فراموش کردیا۔ 6 ماہ میں کالیشورم سے پانی سربراہ کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن 9 سال گذرنے کے باوجود کوئی پیشرفت نہیں ہوئی۔ کانگریس برسراقتدار آتے ہی اندرون ایک سال 3 لاکھ ایکر اراضی کو پانی سربراہی کا پراجکٹ تعمیر کیا جائے گا۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ مسلمانوں کو 4 ماہ میں 12 فیصد مسلم تحفظات کا وعدہ کیا گیا لیکن 9 سال گذرنے کے باوجود کے سی آر حکومت نے وعدہ کی تکمیل کے بجائے موجودہ 4 فیصد تحفظات کو بچانے میں سنجیدگی کا اظہار نہیں کیا۔ کانگریس پارٹی نے مسلمانوں کو تعلیم اور روزگار میں تحفظات فراہم کئے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ دلتوں کو اراضیات الاٹ کرنے کے وعدہ کا کیا ہوا۔ محمد علی شبیر نے عوام سے اپیل کی کہ وہ متحدہ ضلع نظام آباد کے تمام اسمبلی حلقہ جات میں کانگریس امیدواروں کو بھاری اکثریت سے کامیاب بنائیں۔ انہوں نے کاماریڈی سے ریونت ریڈی کی جیت کو یقینی قرار دیا اور کہا کہ راہول گاندھی کے فیصلہ کے مطابق ریونت ریڈی کاماریڈی سے جبکہ وہ نظام آباد ( اربن ) سے چناؤ لڑ رہے ہیں۔جلسہ عام سے کانگریس کے بی سی قائدین وی ہنمنت راؤ، مدھو یاشکی گوڑ، مہیش کمار گوڑ اور دوسروں نے مخاطب کیا۔ اے آئی سی سی جنرل سکریٹری انچارج تلنگانہ مانک راؤ ٹھاکرے، رکن راجیہ سبھا عمران پرتاب گڑھی اور اے آئی سی سی کے سکریٹریز اور دیگر عہدیدار اس موقع پر موجود تھے۔