مسلمانوں کی تعلیمی و معاشی شعبوں میں ترقی کے ذریعہ ہی ویژن 2047 کی کامیابی

   

اقلیتوں کی ترقی کے بغیر ملک کی ترقی ناممکن، بیدر میں مسلمانوں میں میانہ روی ضروری، شاہین گروپ آف انسٹی ٹیوشنس کی عالمی کانفرنس سے جناب عامر علی خان کا خطاب

حیدرآباد۔ یکم ؍ ڈسمبر (سیاست نیوز) ہندوستان فی الوقت وکشت بھارت (ترقی یافتہ بھارت) کے دور سے گذررہا ہے۔ مرکزی حکومت ویژن 2047 کے تحت آئندہ 23 برسوں میں ہندوستان کو ایک ترقی یافتہ ملک بنانے کے وعدے اور دعوے کررہی ہے۔ ایسے میں شاہین گروپ آف انسٹی ٹیوشنس کی جانب سے ہندوستانی دانشوروں کا ویژن برائے 2047 پر ایک بین الاقوامی کانفرنس کا اہتمام ایک خوش آئند بات ہے۔ اس کے لئے صدرنشین شاہین گروپ آف انسٹی ٹیوشنس ڈاکٹر عبدالقدیر قابل مبارکباد ہیں۔ بے شک ہر ہندوستانی کی یہی خواہش ہے کہ ہمارا ملک ایک ترقی یافتہ ملک ہو اور ملک کے طول و عرض میں عوام معاشی ترقی کے ثمرات سے مستفید ہوں جو کچھ بھی چیالنجز بشمول ماحولیات کے جو بھی حالات ہوں ان پر قابو پاتے ہوئے ہندوستان تو ایک ترقی یافتہ ملک ہونا چاہئے لیکن ہم سب کو یہ ضرور یاد رکھنا چاہئے کہ کسی بھی ملک کی ترقی اس وقت تک ممکن نہیں ہوسکتی جب تک وہاں کے اقلیتیں ترقی نہ کریں اگر حکومتیں اپنی اقلیتی آبادی کو نظرانداز کرتی ہے تو وہ ملک لاکھ دعوؤں کے باوجود ترقی نہیں کرسکتے۔ اس ضمن میں امریکہ ہمارے سامنے ہے جہاں سیاہ فام باشندوں کو نظرانداز کرتے اور پھر ان کی ترقی کو یقینی بناکر دیکھ لیا گیا۔ ان خیالات کا اظہار شاہین گروپ آف انسٹی ٹیوشنس کی جانب سے مسلم دانشوروں کے لئے منعقدہ عالمی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نیوز ایڈیٹر روز نامہ سیاست جناب عامر علی خان ایم ایل سی نے کیا۔ وہ سیاست اور میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے شاہین گروپ کے بیدر کیمپس میں منعقدہ اپنی نوعیت کی اس عالمی کانفرنس میں ملک و بیرون ملک سے آئے ہوئے دانشوروں کی ایک کہکشاں موجود تھی جن میں ڈائرکٹر ابو صالح شریف ایگزیکٹیو ڈائرکٹر یو ایس، انڈیا پالیسی انسٹی ٹیوٹ، لیفٹننٹ جنرل ضمیر الدین شاہ سابق وائس چانسلر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، جناب امیر احمد صدر نشین مناپت گروپ، مولانا فیض رحمانی سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ، آیت اللہ مہدی مہدی پور ایرانی رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ کے نمائندہ خصوصی برائے ہندوستان، ڈاکٹر جاوید جمیل ہیڈ ڈپارٹمنٹ آف اسلامک اسٹیڈیز اینڈ ریسرچ Yennapaya یونیورسٹی، جناب امیر الحسن صدر نشین رفاہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری، پروفیسر مظفر اسدی میسور، مسٹر آدتیہ مینن سینئر جرنلسٹ دی کوئنٹ ولی رحمانی بانی امید اکیڈیمی، ڈاکٹر عبدالعزیز عبد الرحیم بانی انڈر اسٹانڈ قرآن اکیڈیمی شامل ہیں۔ جناب عامر علی خان نے سلسلہ خطاب جاری رکھتے ہوئے پرزور انداز میں کہا کہ ویژن 2047 میں مسلمانوں کو پرجوش انداز میں حصہ لینا چاہئے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ ہمارے ملک میں عوام کو مذہبی خطوط پر تقسیم کیا جارہا ہے۔ مسلمانوں کے خلاف بڑے پیمانے پر ایک منظم سازش کے تحت نفرت کی لہر پھیلائی جارہی ہے اور اس نفرت کا فیصد بڑھتا ہی جارہا ہے۔ دی وائر کی ایک رپورٹ کے حوالے سے جناب عامر علی خان نے شرکاء کو بتایا کہ خاص طور پر شمالی ہند میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کا فیصد 27.28 ہے جبکہ جنوبی ہند کی ریاستوں میں یہ رجحان کم ہے ملک کے موجودہ حالات کے پیش نظر ہمیں 2047 تک بڑی سنجیدگی سے آگے بڑھنا ہوگا۔ ماضی کو بھول کر حال کو سامنے رکھ کر مستقبل کی بات کرنی ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ تجارتی شعبہ میں بھی ہم بہت پیچھے ہیں۔ انہوں نے پرزور انداز میں یہ بھی حقیقت یاد دلائی کہ مسلمانوں کی سیاسی نمائندگی میں بھی مسلسل گراوٹ آرہی ہے۔ ارکان اسمبلی اور ارکان پارلیمنٹ کی تعداد کم ہوتی جارہی ہے جس کے نتیجہ میں ہم سیاسی، تعیلمی، معاشی حد تو یہ ہیکہ صحت کے شعبہ میں بھی دیگر ابنائے وطن سے پیچھے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ 1992 میں شہادت بابری مسجد کے بعد مسلمانوں میں تعلیمی شعور جاگا، لوگوں میں یہ جذبہ پیدا ہوا کہ تعلیمی شعبہ میں آگے بڑھیں۔ 2002 گجرات فسادات کے بعد قومی سطح پر مسلمانوں کے درمیان نٹ ورک قائم ہوا اور مل کر اتحاد و اتفاق سے کام کرنے کا جذبہ پیدا ہوا۔ ہمارے درمیان اس طرح کی ایک طاقتور نٹ ورکنگ ہونی چاہئے۔ جناب عامر علی خان نے مسلمانوں کے خلاف نفرت کے لئے متعصب و جانبدار میڈیا کو بھی ذمہ دار قرار دیا اور کہا کہ 9/11 کے بعد سے امریکی میڈیا سے لے کر گودی میڈیا تمام کے تمام نے مسلمانوں کی منفی شبیہہ بنانے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی۔ فی الوقت ہم تعلیمی شعبہ میں آگے جارہے ہیں۔ انٹلکچول سطح پر بھی ہمیں آگے بڑھنا چاہئے۔ انہوں نے شرکاء کو بتایا کہ انہوں نے مسلمانوں کی معاشی و تعلیمی ترقی کو یقینی بنانے کئی منصوبے بنائے ہیں جس کی تازہ ترین مثال سیاست۔ ہب ہے۔ اس ضمن میں انہوں نے کہا کہ ’’میں نے سوچا کہ 6 سال تو ایم ایل سی کے گذر جاسکتے ہیں ایسے میں میں نے خود اپنے لئے ایک ہدف مقرر کیا کہ ایک لاکھ مسلم خاندانوں کی معاشی طور پر ممکنہ مدد کروں گا‘‘ ہمارا آج معاشی طور پر مستحکم ہونا ضروری ہے تاکہ کسی میں ہمارا استحصال کرنے کی جرأت نہ ہوسکے۔ اس ضمن میں انہوں نے اوقافی جائیدادوں کے صحیح استعمال کی جانب توجہ دلاتے ہوئے بتایا کہ ریاست تلنگانہ کے 33 اضلاع میں اگر ہم موقوفہ اراضیات پر (کم از کم 5 ایکڑ اراضی پر ایک میگاواٹ برقی پیدا کریں تو) اس سے 90 لاکھ کی آمدنی وقف بورڈ کو حاصل ہوسکتی ہے۔ اس ضمن میں جناب عامر علی خان نے ملگ ضلع کی مثال پیش کی اور بتایا کہ وہاں مسلمانوں کی آبادی 11024 ہے، جنگاؤں میں 24800 اور سنگاریڈی میں مسلمانوں کی آبادی 272000 ہے اگر ایک ضلع میں سولار پاور پراجکٹ آتا ہے تو وقف بورڈ کو ماہانہ ایک پلانٹ سے 8 لاکھ کی آمدنی ہوسکتی ہے۔ 2047 ویژن کے بارے میں جناب عامر علی خان نے کہا کہ ہم اپنی صلاحیتوں کے ذریعہ ہی قومی تعمیر میں اپنا حصہ ادا کرسکتے ہیں۔ تعصب و جانبداری کا مقابلہ کرسکتے ہیں۔ ہم نے طئے کیا ہے کہ سیاست ۔ ہب سے دس ہزار نہیں ایک لاکھ باصلاحیت بچے رجوع ہوتے ہیں تو بھی ہم انہیں ترقی کی راہ پر گامزن کریں گے۔ 2047 کے لئے یہ سوچ لے کر چلیں کہ ہندو۔ مسلم شیر و شکر کی طرح مل کر نہیں رہیں گے تو ہندوستان ترقی نہیں کرے گا۔ خاص طور پر دانشوروں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ مسلمانوں کو ویژن 2047 کے لئے تیار کریں۔ ہم میں بھی اعتدال پسندی اور میانہ روی آنی چاہئے تب ہی ہندوستان کی صبح ایک اچھا اور پرامن ہندوستان دیکھیں۔ انہوں نے مسلمانوں کو بیجا اسراف سے گریز اور اپنے آبنائے وطن کے تہواروں میں شرکت کرنے ان کے ساتھ خوشیاں بانٹنے کا مشورہ بھی دیا اور یہ بھی کہا کہ قرآن اور حدیث کے ذریعہ ہم خود کو ایک اچھا مسلمان ایک اچھا انسان بناسکتے ہیں۔ اس موقع پر جناب امین الحسن صدر نشین رفاہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری و نائب صدر جماعت اسلامی نے بھی خطاب کرتے ہوئے تجارت کی اہمیت واضح کی اور کہا کہ مسلم تاجرین کو چار چیالنجز کا سامنا ہے جن میں مذہبی چیالنج، تہذیب و ثقافت کا دباؤ، جانبداری و تعصب اور امتیازی سلوک اور داخلی چیالنج شامل ہیں جن کا حل قرآن اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں بتا دیا گیا ہے۔ جناب عامر علی خان کے خطاب کے بعد صدر نشین شاہین گروپ آف انسٹی ٹیوشن نے ڈاکٹر عبدالقدیر نے انہیں وہاں کی مختلف سرگرمیوں اور شعبوں کا معائنہ کروایا۔