روسٹر پوائنٹس کے بارے میںحکومت کی وضاحت غیر واضح، نیا روسٹر جاری کرنے کا مطالبہ
حیدرآباد ۔21 ۔ نومبر (سیاست نیوز) تلنگانہ میں مسلم تحفظات کو 4 فیصد سے گھٹاکر 3 فیصد کرنے کے مسئلہ پر الجھن برقرار ہے اور حکومت کو اس معاملہ میں وضاحت کرنی چاہئے ۔ تلنگانہ قانون ساز کونسل کے سابق اپوزیشن لیڈر محمد علی شبیر نے آج چیف سکریٹری سومیش کمار کو اس سلسلہ میں یادداشت حوالے کی اور تحفظات کے روسٹر پوائنٹس میں مسلم تحفظات کو 4 فیصد کے بجائے 3 فیصد درج کرنے پر وضاحت کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ روسٹر سسٹم میں صرف تین مقامات میں بی سی ای زمرہ کا ذکر کیا گیا ہے جبکہ ریاست میں مسلمانوں کو تحفظات 4 فیصد ہیں۔ تعلیم اور روزگار میں ایک فیصد تحفظات میں کمی سے مسلم امیدواروں کا بھاری نقصان ہوگا۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ چیف سکریٹری سے خواہش کی گئی کہ وہ ڈائرکٹ رکروٹمنٹ کے معاملہ میں روسٹر پوائنٹس کی بہتر انداز میں وضاحت کریں ۔ ایس ٹی طبقات کے تحفظات کو 6 سے بڑھاکر 10 فیصد کرتے ہوئے حکومت نے روسٹر پوائنٹس جاری کئے جس میں 19 ، 44 اور 94 ویں مقام پر بی سی ای زمرہ کا ذکر کیا گیا ہے ۔ روسٹر میں 69 ویں مقام پر بی سی ای کے بجائے بی سی بی شامل کردیا گیا جس کے نتیجہ میں مسلم تحفظات میں ایک فیصد کی کمی ہوجائے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے محکمہ اطلاعات کے ذریعہ جو وضاحت جاری کی گئی ہے، وہ نامکمل اور غیر واضح ہے۔ اس وضاحت سے مسئلہ کی یکسوئی نہیں ہوگی۔ وضاحت میں کہا گیا کہ روسٹر پوائنٹس میں 19 ، 44 ، 69 اور 94 ویں مقام پر بی سی ای کو شامل کیا گیا ہے۔ حکومت کی وضاحت اپنی جگہ ہے لیکن روسٹر پوائنٹس میں 69 ویں مقام پر بی سی بی کا تذکرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم تحفظات کے بارے میں حکومت کا موقف واضح نہیں ہے۔ سکریٹری کے احاطہ میں دو مساجد میں انہدام کے بعد اسی طرح کا بیان جاری کیا گیا تھا جس میں انہدام کے بجائے معمولی نقصان کی بات کی گئی۔ محمد علی شبیر نے چیف منسٹر اور چیف سکریٹری سے مطالبہ کیا کہ ڈائرکٹ رکروٹمنٹ کیلئے نیا روسٹر پوائنٹس جاری کریں جس میں غلطی کی اصلاح کی جائے۔ مسلم تحفظات کو تین فیصد کرنے کے ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کی جائے۔ر