Saturday , April 4 2020

مسلم جوڑے عبداللہ اور خدیجہ نے ہندو بیٹی کی شادی کی

کیرالا کے کاسر گوڈ میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا بہترین مظاہرہ

کسرا گوڈ (کیرالا) 18 فروری (سیاست ڈاٹ کام) کاسر گوڈ کے شاہین منزل کی راجیشوری نامی لڑکی کی وشنو پرساد نامی نوجوان سے بھگوتی مندر میں شادی ہوئی جس پر عبداللہ اور خدیجہ نے بے انتہا خوشی کا اظہار کیا اور اُن کی آنکھوں سے آنسو بھی رواں تھے۔ مسلم جوڑے نے علاقہ تنجورے کی رہنے والی راجیشوری کو گود لیا تھا اور اُس کی بہتر پرورش کے بعد ہندو لڑکے سے ہی اُس کی شادی کروادی۔ عبداللہ اور خدیجہ کے اِس اقدام سے علاقہ میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی مثال قائم ہوئی ہے۔ شادی کے موقع پر راجیشوری کے رشتہ دار اور مسلمانوں کی کثیر تعداد بھی مندر میں موجود تھی۔ عبداللہ نے بتایا کہ والدین کے انتقال کے بعد راجیشوری پہلی مرتبہ جب اُن کے گھر آئی تو اُس کی عمر 7 یا 8 برس تھی۔ اُنھوں نے انتہائی پیار و محبت کے ساتھ اُس کی پرورش کی اور اُس نے اپنے آبائی مقام تنجور کو جانے کا کبھی نام نہیں لیا۔ اب اُس کی عمر 22 سال ہے اور ہم نے اُسی کی برادری میں اُس کی شادی طے کروادی۔ راجیشوری کے حقیقی والد سروانند کاسر گوڈ میں قلی کا کام کرتے تھے۔ سروانند کا عبداللہ کے مکان آنا جانا تھا جس کی وجہ سے اُن کے خاندانی تعلقات پیدا ہوگئے تھے۔ اِسی وجہ سے راجیشوری بچپن ہی سے عبداللہ اور خدیجہ سے قریب تھی۔ راجیشوری کی عبداللہ کے تین بیٹوں شمیم، نجیب اور شریف کے ساتھ پرورش ہوئی۔ وشنو کے ساتھ جب راجیشوری کی شادی طے ہوئی تو حقیقی ماں باپ کی طرح عبداللہ اور خدیجہ نے وشنو کے مکان جاکر اُس کے ارکان خاندان سے بات چیت کی۔ وشنو کے ارکان خاندان نے مندر میں شادی کرنے کا مطالبہ کیا اور دونوں خاندان اِس پر راضی ہوگئے۔ اتوار کو اِس شادی میں عبداللہ کی 84 سالہ والدہ صفیہ اماں بھی شریک ہوئیں۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT