بغیر ٹنڈرس رقومات کی ادائیگی
حیدرآباد۔17۔ مئی ۔(سیاست نیوز) حکومت تلنگانہ کے محکمہ اقلیتی بہبود میں اقرباء پروری کوئی نئی بات نہیں ہے لیکن اب یہ انتہاء کو پہنچ چکی ہے کیونکہ بیشتر اداروں میں ایک ہی عہدیدار کو اضافی ذمہ داریاں مخصوص عہدیداروں اور ان کے رشتہ داروں کی چاندی کا سبب بن رہے ہیں۔ تلنگانہ ریاستی حج کمیٹی کے پاس جہاں ریاستی اردو اکیڈیمی سے حاصل کئے گئے ایک کروڑ کا قرض واپس کرنے کے لئے پیسہ نہیں ہے وہیں اگزیکٹیو آفیسر کے دفتر کی تزئین نو اور آہک پاشی کے لئے 15لاکھ روپئے موجود ہیں۔ تلنگانہ ریاستی حج کمیٹی کے اگزیکٹیو آفیسر کے دفتر کی آہک پاشی کے لئے بغیر کوئی ٹنڈر طلب کئے محکمہ اقلیتی بہبود کے تحت خدمات انجام دینے والے ایک عہدیدارکے رشتہ دار کو یہ کام حوالہ کیا گیا اور اس دفتر کو 2لاکھ روپئے مالیت کا دروازہ لگایا گیا ہے جبکہ پرانے دفتر میں موجود المونیم کے پارٹیشن کو نکالنے کے لئے بھی علحدہ رقومات وصول کی گئی ہیں۔ حج کمیٹی کے اگزیکٹیو آفیسر کے دفتر میں کارپینٹر کا کام 5لاکھ روپئے کا کروایا گیا ہے ۔ مرکزی حکومت کی جانب سے شہریو ںکو ٹائیلٹ بنانے کے لئے 12ہزار روپئے دیئے جار ہے ہیں جبکہ اگزیکٹیو آفیسر حج کمیٹی کے کمرہ میں 23ہزار 500روپئے کا کموڈ نصب کیا گیا ہے۔ دفتر میں تعمیر کئے گئے باتھ روم کی جملہ لاگت کا جائزہ لیا جائے تو قریب ایک لاکھ روپئے کے باتھ روم کی تعمیر عمل میں لائی گئی ہے جس میں 20ہزار روپئے کا واش بیسن ہے۔ ڈائریکٹر وکمشنر محکمہ اقلیتی بہبود ایم بی شفیع اللہ آئی ایف ایس جو کہ ڈائریکٹر سیکریٹری اردو اکیڈیمی ‘ تلنگانہ ریاستی حج کمیٹی کے علاوہ سیکریٹری ٹمریز کے عہدہ پر فائز ہیں ان کے لئے تیار کئے جانے والے اس دفتر کے متعلق جس کا دروازہ 2 لاکھ روپئے کا ہے اس کے کام ٹمریز میں خدمات انجام دینے والے ایک عارضی ملازم کے رشتہ دار کے حوالہ کئے گئے ہیں اور اس ٹھیکہ دارکو اس بات کا بھی تیقن دیا گیا ہے اسی طرز کا دفتر اردو اکیڈیمی کا بھی تیار کیا جانا ہے یعنی ڈائریکٹر سیکریٹری کے دفتر کی تیاری کے لئے بھی 15لاکھ روپئے تک کا کام حوالہ کیا جائے گا۔ سرکاری اصولوں اور قواعد کے مطابق کوئی بھی کام جس کی لاگت 5لاکھ روپئے سے زیادہ ہے اسے کسی بھی صورت میں بغیر ٹنڈر کے کسی ٹھیکہ دار کے حوالہ نہیں کیا جاسکتا لیکن محکمہ اقلیتی بہبود کے تحت خدمات انجام دینے والے اداروں میں بغیر کسی ٹنڈر کے کاموں کی حوالگی معمول بنی ہوئی ہے لیکن کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ عہدیداروں کے پاس اپنے دفاتر کی تعمیر کے لئے لاکھوں روپئے موجود ہیں لیکن ٹمریز کے اسکولوں میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کے لئے جائے نمازوں کی خریدی کے لئے شہر کے سرکردہ افراد سے چندہ وصول کیا جارہا ہے ۔ ٹمریز میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کے لئے جائے نمازوں کی خریدی ادارہ کی ذمہ داری ہے لیکن اس مقصد کے لئے سرکردہ شہریوں سے چندہ کی وصولی کی جار ہی ہے جبکہ عہدیداروں کے دفاتر کی تعمیر و تزئین کے لئے لاکھوں روپئے خرچ کئے جا رہے ہیں۔م