مسلم وفد کی اجیت ڈوول سے ملاقات،تعلیم، ہنر اور قومی یکجہتی پر تبادلہ خیال

   

ممبئی،19 اپریل ( یواین آئی) ملک میں سماجی ہم آہنگی، تعلیمی فروغ اور معاشی بااختیاری کے موضوعات پر ایک اہم پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب مسلم کمیونٹی کے ممتاز ماہرینِ تعلیم، صنعت کاروں اور سماجی کارکنوں پر مشتمل ایک باوقار وفد نے دہلی میں قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول سے تفصیلی ملاقات کی۔ اس وفد کی قیادت معروف صنعت کار اور مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے سابق چانسلر ظفر سریش والانے کی ۔ یہ ملاقات نہ صرف اہم قومی مسائل پر گفتگو کا ذریعہ بنی بلکہ اس نے حکومت اور مسلم کمیونٹی کے درمیان مثبت اور تعمیری بات چیت کی ایک مضبوط مثال بھی قائم کی۔ وفد میں شامل نمایاں شخصیات میں انعام الرقی، ابرار عراقی، حاجی ریما، الطاف صادقوت، جنید شریف، ثمینہ شیخ، باملہ سحر، نعیمہ خاتون، کوثر جہاں، ڈاکٹر ظاہر قاضی، ڈاکٹر نشاط حسین اور ڈاکٹر فاروق پٹیل شامل تھے جو مختلف شعبہ حیات میں اپنی خدمات کے لیے جانے جاتے ہیں۔ ملاقات کا بنیادی مقصد مسلم کمیونٹی میں تعلیم کے فروغ، نوجوانوں کی ہنر مندی میں اضافہ، اور کاروباری مواقع کو وسعت دینا تھا تاکہ کمیونٹی کو قومی دھارے میں مزید مضبوطی سے شامل کیا جا سکے ۔ اس موقع پر اجیت ڈوول نے کھل کر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کی اصل طاقت اس کی کثیرالثقافتی شناخت میں مضمر ہے ۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ہر شہری کی شناخت کئی پرتوں پر مشتمل ہوتی ہے تاہم سب سے اہم شناخت ہندوستانی ہونا ہے اور کسی ایک شناخت تک خود کو محدود کرنا ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن سکتا ہے ۔ انہوں نے حالیہ برسوں میں فوج اور نیم فوجی دستوں میں مسلم نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی شرکت کو ایک مثبت علامت قرار دیا اور کہا کہ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ملک میں مواقع سب کیلئے یکساں دستیاب ہیں۔ تاہم انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اصل چیلنج ہنر کی کمی اور معاشی پسماندگی ہے جس پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ ان کے مطابق تعلیم اور ہنر ہی وہ بنیادی ستون ہیں جو کسی بھی کمیونٹی کو ترقی کی راہ پر گامزن کرتے ہیں۔
اس موقع پر ڈاکٹر فاروق پٹیل نے کہاکہ معاشی ترقی مذہبی تفریق سے بالاتر ہو کر ہی ممکن ہے ۔ ملاقات کے دوران اسلامی بینکاری جیسے جدید معاشی تصورات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا ۔جنوری 2026 میں اجمیر شریف سے وابستہ ایک صوفی وفد نے ملاقات کی تھی ۔2019 میں ایودھیا فیصلے کے بعد بھی انہوں نے مختلف مذاہب کے رہنماؤں سے بات چیت کر کے امن و استحکام برقرار رکھنے کی کوشش کی تھی۔

اختتام پر اجیت ڈوول نے اس بات پر زور دیا کہ بات چیت جاری رہنا چاہیے اور معاشرے کے ہر طبقے کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے ملک کی ترقی میں فعال کردار ادا کرنا چاہیے اور یہی اتحاد ملک کو ترقی کی نئی بلندیوں تک لے جا سکتا ہے ۔