مصنوعی ذہانت کے خدشات کو سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے: پوپ لیو

   

پیرس ؍روم ۔ 29 ستمبر (ایجنسیز) ویٹیکن کے سربراہ پوپ لیو چہاردہم نے کہا ہے کہ یہ خدشات کہ مصنوعی ذہانت دنیا کو تباہ کر سکتی ہے جھوٹی خبریں نہیں ہیں اور انہیں سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے۔ ان کا یہ بیان امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ پر ایک واضح تنقید ہے۔ پہلے امریکی پوپ نے اپنی 16 ماہ سے جاری پاپائیت کے دوران مصنوعی ذہانت کے خطرات سے خبردار کیا ہے اور ان ٹیک کمپنیوں کے چیف ایگزیکٹوز پر براہ راست تنقید کی ہے جنہوں نے اس ٹیکنالوجی پر کسی بھی قسم کی پابندیاں نہ عائد کرنے کے لزوم پر زور دیا تھا۔ پوپ لیو نے فرانس کے چار روزہ دورے کے بعد روم واپسی کے دوران جہاز پر منعقدہ ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ میرا واقعی ماننا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے شعبے میں متعدد ماہرین اور متخصصین کی طرف سے اٹھائے گئے خدشات کو سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے۔انہوں نے مزید کہا کہ میں نہیں سمجھتا کہ یہ جھوٹی خبریں ہیں، جیسا کہ کچھ لوگوں نے کہا ہے۔ یاد رہے ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سامنے کہا تھا کہ ان کا ماننا ہے کہ مصنوعی ذہانت سے انسانیت کو درپیش خطرات کے بارے میں خدشات ایک دھوکہ ہیں۔ پوپ لیو نے کہا کہ انہوں نے آج پڑھا ہے کہ چپ بنانے والی کمپنی اینویڈیا کے سربراہ نے اعلان کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے مخصوص ماڈلز میں ضوابط شامل کرنے کا ایک طریقہ ہو سکتا ہے۔
لیکن پوپ لیو نے اپنے شک و شبہات کا اظہار کرتے ہوئے مزید کہا کہ یہ وہی شخص ہے جو کہتا ہے کہ کوئی حد یا حکومتی تنظیم نہیں ہونی چاہیے۔