جناب عامر علی خاں ایم ایل سی سے تلنگانہ جوڈیشیل سروسیس کے لیے منتخب عرشیہ نصرت کی ملاقات
حیدرآباد ۔ 11 ۔ جون : ( سیاست نیوز) : نونہالان ملت میں صلاحیتوں کی کوئی کمی نہیں ہے ۔ صرف انہیں رہنمائی کی ضرورت ہے ۔ اگر ان کی بہتر انداز میں رہنمائی کی جائے تو وہ ترقی کی بلندیوں کو چھونے لگیں گے ۔ ان خیالات کا اظہار نیوز ایڈیٹر سیاست جناب عامر علی خاں ایم ایل سی نے محترمہ عرشیہ نصرت سے ملاقات میں کیا ۔ عرشیہ نصرت کا حال ہی میں تلنگانہ جوڈیشیل سروسیس کے لیے انتخاب عمل میں آیا ہے اور وہ جلد ہی بحیثیت جج ؍ جوڈیشیل مجسٹریٹ کی حیثیت سے اپنے باوقار عہدہ کا جائزہ حاصل کریں گی ۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ تلنگانہ جوڈیشیل سروسیس کے لیے جملہ 49 امیدوار منتخب ہوئے جن میں عرشیہ نصرت واحد مسلم امیدوار ہیں ۔ جناب عامر علی خاں نے عرشیہ نصرت اور ان کی ساس صاحبہ شاہین فاطمہ سے بات چیت میں اس بات پر مسرت کا اظہار کیا کہ تلنگانہ جوڈیشیل سروسیس کے لیے ایک دختر ملت کا انتخاب عمل میں آنا ایک اچھی علامت ہے ۔ اس سے دوسری لڑکیوں کو اور فرزندان ملت کو ایک نیا عزم و حوصلہ ملے گا ۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ آج ملک میں جو حالات ہیں ان حالات میں مسلم طلباء و طالبات کا پیشہ قانون یا پیشہ وکالت سے وابستہ ہونا بہت ضروری ہے ۔ جناب عامر علی خاں نے انہیں روزنامہ سیاست کی بہبودی اسکیمات کے بارے میں واقف کرواتے ہوئے بتایا کہ ہم نے ہمیشہ ملی مفادات کو اولین ترجیح دی ہے ۔ دختران و فرزندان ملت کی تعلیمی ترقی کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کئے ہیں چنانچہ حال ہی میں انٹر میڈیٹ بی پی سی میں امتیازی کامیابی حاصل کرنے والے زائد از 370 طلباء وطالبات کو تہنیت پیش کی گئی ۔ نقد انعامات اور تحائف پیش کئے گئے ۔ انہوں نے پر زور انداز میں کہا کہ ہمارے بچوں کو پیشہ قانون میں لانے کے لیے روزنامہ سیاست ، سیاست ٹی وی اور سیاست ڈاٹ کام کوئی کسر باقی نہیں چھوڑے گا ۔ واضح رہے کہ محترمہ عرشیہ نصرت جناب اسد اللہ شریف جونیر سیول جج و جوڈیشیل مجسٹریٹ کی اہلیہ ہیں ۔ انہوں نے روزنامہ سیاست اور سیاست ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ دہلی کے لیڈی ارون اسکول سے ابتدائی تعلیم حاصل کی ۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ سے گیارہویں اور بارہویں جماعت کامیاب کیا اور جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ہی بی اے ، ایل ایل بی کیا ۔ شادی کے بعد وہ حیدرآباد منتقل ہوئیں ۔ انہیں بچپن سے ہی جج بننے کا شوق تھا اور تعلیم کے دوران ان کی آخری انٹرن شپ ایک جج کے ساتھ ہوئی اور انہیں احساس ہوا کہ مجھے پیشہ قانون سے وابستہ ہونا ہے اور پھر دہلی جوڈیشیل سروسیس کے مسابقتی امتحان کی تیاری شروع کی اور قسمت انہیں حیدرآباد لے آئی ۔ یہاں ان کے شوہر محمد اسد اللہ شریف جونیر سیول جج اور ان کے خسر محمد عبداللہ شریف ریٹائرڈ ڈسٹرکٹ جج اور ساس صاحبہ شاہین فاطمہ نے ان کی ہر طرح سے حوصلہ افزائی کی ۔ یہاں تک کہ ان کے خسر صاحب نے تلگو سکھائی ۔ عرشیہ نصرت نے اپنی کامیابی میں اہم کردار ادا کرنے والے اپنے والدین جناب نصرت حسین اور بشریٰ نصرت کا بطور خاص حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی اپنے ماں باپ کی حوصلہ افزائی اور سپورٹ کے بناء کامیابی کا تصور نہیں کرسکتا ۔ عرشیہ نصرت نے خاص طور پر لڑکیوں کو مشورہ دیا کہ وہ صرف ڈاکٹر یا انجینئر بننے کی بجائے وکیل بن کر مظلوموں اور کمزوروں کی مدد کریں ۔ قانون اور انصاف تک ان کی رسائی کو یقینی بنائیں ۔۔