بھولے بن کر حال نہ پوچھ بہتے ہیں اشک تو بہنے دو
جس سے بڑھے بے چینی دل کی ایسی تسلی رہنے دو
ایران جنگ کے اثرات ساری دنیا پر ہونے لگے ہیں اور اس کے نتیجہ میں جو سب سے زیادہ تشویشناک صورتحا انسانی بحران کے بعد پیدا ہوئی ہے وہ معیشتوں پر ہونے واے منفی اثرات ہیں۔ جنگ سب سے زیادہ انسانی بحران پیدا کرتی ہے اور وہ ہو رہا ہے ۔ انسانی بحران مشرق وسطی اور ایران تک محدود ہے ۔ حالانکہ یہ بھی بہت بڑا مسئلہ اور سنگین صورتحال ہے اور اس سے انکار کی گنجائش نہیںہوسکتی تاہم دوسرا اہم مسئلہ معیشتوں کی اتھل پتھل کا ہے ۔ یہ اثرات صرف ایران یا مشرق وسطی تک محدود نہیں رہ گئے ہیں بلکہ ساری دنیا پر اس کے اثرات ہونے لگے ہیں۔ یہ اثرات ترقی یافتہ کہلانے والے ممالک پر بھی مرتب ہو رہے ہیںاور اس کے نتیجہ میں یقینی اور لازمی طور پر عام آدمی مشکلات اور مسائل سے دو چار ہونے لگا ہے ۔ جہاں کچھ ممالک میں توانائی ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے وہیں ہفتے میں صرف چار دن کام کی تجویز پر بھی غور ہو رہا ہے ۔ کچھ ممالک میں گاڑیوں کی تعداد پر پابندی لگانے کی بات ہو رہی ہے تو کہیں ورک فرم ہوم کے کلچر کو دوبارہ بحال کرنے پر غور کیا جا رہا ہے ۔ جہاں ترقی یافتہ ممالک مسائل کا شکار ہو رہے ہیں وہیںغریب اور ترقی پذیر ممالک بھی اس کے اثرات سے محفوظ نہیں ہیں۔ ساری صورتحال انتہائی تشویشناک ہونے لگی ہے ۔ خود ہندوستان میں بھی حالات مشک ہونے گے ہیں اور جنگ کے اثرات زندگی کے کئی شعبوں پر دکھائی دینے لگے ہیں۔ ہندوستانی معیشت جو ترقی کی رفتار پکڑ رہی تھی اور حاات کچھ بہتر ہونے کی امی دکی جا رہی تھی وہ بھی مشکات کا شکار ہونے لگی ہے اور کئی طرح کے مسائل پیدا ہونے کے اندیشے لاحق ہوگئے ہیں۔ ہندوستان میں حصص بازار بری طرح سے گراوٹ کا شکار ہو رہا ہے ۔ مارکٹیںاتھل پتھل کا شکار ہوگئی ہیں۔ ڈالر کے مقابلہ میں روپئے کی قدر میں گراوٹ آ رہی ہے اور پہلے سے زیادہ قدر کم ہوگئی ہے ۔ کمرشیل گیس کی سپلائی متاثر ہو کر رہ گئی ہے ۔ عام پٹرول اور ڈیزل کی حالانکہ فی الحال کوئی قلت نہیں ہے تاہم آئندہ وقتوں میں اگر جنگ طویل ہوتی ہے تو یہ صورتحال پیدا ہوسکتی ہے اور قیمتوں میںاضافہ کے اندیشوں کو بھی مسترد نہیں کیا جاسکتا ۔
ہندوستان کی اسٹاک مارکٹوں کا جو حا ل ہے وہ سب سے بدترین کہا جاسکتا ہے ۔ لگاتار اسٹاک مارکٹ میں گراوٹ کی وجہ سے سرمایہ کار اپنی محنت کی کمائی سے محروم ہونے گے ہیں اور لاکھوں کروڑ روپیہ سے سرمایہ کار محروم ہوگئے ہیں۔ اس کے علاوہ بیرونی سرمایہ کار کمپنیاں اور ادارے ہندوستانی حصص بازار سے اپنی رقومات نکال رہی ہیں اور اس کے اثرات ملک کے عوام پر بھی مرتب ہونے گے ہیں۔ تجارتی گیس کی سپلائی متاثر ہونے کے نتیجہ میں مینوفیکچرنگ کا شعبہ بھی متاثر ہونے کے اندیشے لاحق ہو رہے ہیں۔ روپئے کی قدر میں گراوٹ کی وجہ سے بھی مہنگائی میں اضافہ ہوسکتا ہے ۔ سونے اور چاندی کی قیمتوں میں بھی اتار چڑھاو کا سلسلہ جاری ہے ۔ روزآنہ محنت مزدوری کرتے ہوئے روزگار حاصل کرنے والے افراد پر منفی اثر دکھائی دینے لگا ہے ۔ ساری صورتحا تشویشناک ہوتی چلی جا رہی ہے اور ضرورت اس بات کی ہے کہ معاشی شعبہ میں جو اتھل پتھل چل رہی ہے اس کو قابو میں کرنے کیلئے فوری طور پر اقدامات کئے جائیں۔ ہندوستان نے لگاتار جدوجہد کے ذریعہ ترقی کی جو راہ اختیار کی تھی وہ متاثر ہونے لگی ہے اور صورتحال قابو سے پوری طرح باہر ہونے سے قبل اس پر توجہ کرتے ہوئے حالات کو معمول پر لانے اور صورتحال کو مستحکم بنانے پر توجہ کرنے کی ضرورت ہے ۔ حالات کو زیادہ دیر تک ان دیکھا نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی خاموشی اختیار کرتے ہوئے حالات کو بہتر بنایا جاسکتا ہے ۔ اس معاملے میں فوری اقدامات ضروری ہیں۔
بیرونی سرمایہ کار اداروں میں اعتماد برقرار رکھنے کیلئے کوشش کی جانی چاہئے ۔ ڈالر کے مقابلہ میں روپئے کی گھٹتی ہوئی قدر کو روکنے پر بھی توجہ دی جانی چاہئے اور اس بات کو یقینی بنانے کیلئے بھی فوری طور پر اقدامات کئے جانے چاہئیں کہ عام آدمی کو اس کے اثرات سے ممکنہ حد تک محفوظ رکھا جاسکے ۔ دیگر امور سے زیادہ ان حالات کو بہتر بنانے پر حکومت کو توجہ کرنی چاہئے ۔ معاشی شعبہ کا عدم استحکام سارے ملک پر اثر انداز ہوسکتا ہے اور عام آدمی کی زندگی مزید مشکلات کا شکار ہوسکتی ہے ۔ حکومت کو اس معاملے میں حالات قابو سے باہر ہونے سے پہلے حرکت میں آتے ہوئے موثر اور جامع اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ۔