معاہدہ کی اسرائیلی خلاف ورزیوں پریرغمالیوں کی رہائی ملتوی : حماس

   

بیروت: غزہ معاہدہ پر مذاکرات کے جاری رہنے کے باوجود حماس نے پیر کے روز اعلان کیا کہ یرغمالیوں کی رہائی اس وقت تک ملتوی رہے گی جب تک اسرائیل معاہدے کی پاسداری نہیں کرلیتا۔القسام بریگیڈ کے ترجمان ابو عبیدہ نے پیر کو ایک بیان میں اعلان کیا کہ تحریک نے قیدیوں کے تبادلے کو اگلے نوٹس تک ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ قیدیوں کو اگلے ہفتہ 15 فروری کو رہا کیا جانا تھا لیکن اسرائیل نے معاہدہ کی شرائط پر عمل نہیں کیا۔ ابو عبیدہ نے اسرائیل پر بے گھر ہونے والوں کی واپسی میں تاخیر، انہیں بمباری سے نشانہ بنانے اور خوراک کی فراہمی میں تاخیر کا الزام لگایا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ حماس نے اپنی تمام ذمہ داریاں پوری کی ہیں۔قیدیوں کے معاہدے کے پہلے مرحلے پر بات چیت کیلئے قطر جانے والی اسرائیلی ٹیم پیر کو اسرائیل واپس پہنچ گئی۔ اسرائیل کی منی وزارتی کونسل (کابینہ) معاہدے کے دوسرے مرحلے پر بات چیت کیلئے آج منگل کو ایک اجلاس منعقد کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔15 ماہ سے زیادہ عرصے تک غزہ کی پٹی میں اسرائیل کے بدترین قتل عام کے بعد 19 جنوری کو جنگ بندی کا معاہدہ نافذ العمل ہوا تھا۔ اس معاہدے کے تین مراحل تھے۔اس معاہدے میں غزہ کی پٹی کے آبادی والے علاقوں سے لڑائی کے خاتمے اور اسرائیل کے انخلا کی شرط رکھی گئی تھی۔ پہلا مرحلہ 6 ہفتوں تک جاری رہے گا اور اس میں غزہ سے تقریباً 1900 فلسطینیوں کے بدلے 33 اسرائیلی قیدیوں کی رہائی طے کی گئی تھی۔