باقی ہے کہاں سمع و اطاعت کا تصور
اس قوم کی اب کوئی قیادت بھی نہیں ہے
ریاست مغربی بنگال میں انتخابات کی تیاریاں زور و شور کے ساتھ شروع ہوگئی ہیں۔ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار ان دونوں بنگال کے دورہ پر ہیں اور وہاں انہوں نے الیکشن کمیشن کے عہدیداروں کے علاوہ سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کے ساتھ بھی ملاقاتیں کی ہیں اور تمام تیاریوں کا جائزہ لیا ہے ۔ انہوں نے ایک ریمارک کیا تھا کہ الیکشن کمیشن کی کوشش رہے گی کہ بنگال میں انتخابات کو آزادانہ اور منصفانہ طور پر منعقد کیا جائے اور تشدد سے پاک رکھا جائے ۔ کمیشن نے اپنے طور پر جو تیاریاں شروع کرنی تھیں وہ شروع کرلی ہیں اور ریاستی حکومت کے ساتھ بھی کمیشن کو اشتراک کرنے کی ضرورت ہے ۔سب سے اہم پہلو بنگال انتخابات کے تعلق سے کمیشن کو یہ ذہن میں رکھنا چاہئے کہ فہرست رائے دہندگان سے جن ناموں کو حذف کردیا گیا ہے اور جن کے تعلق سے دوبارہ شمولیت کی درخواستیں داخل کی گئی ہیں اور جنہوں نے اپنے کچھ دستاویزات بھی پیش کئے ہیں ان کے تعلق سے جلد فیصلہ کرتے ہوئے ان کے نام بھی فہرست رائے دہندگان میں شامل کئے جائیں۔ صرف ناموں کو نکالتے ہوئے روایتی بیان دیتے ہوئے انتخابات کو آزادانہ اور منصفانہ نہیں بنایا جاسکتا ۔ بنگال کے جو حقیقی شہری ہیں اور جو ملک کے حقیقی رائے دہندے ہیں ان کے ناموں کو فہرست سے باہر رکھتے ہوئے کروائے جانے والے انتخابات کو مکمل نہیں کہا جاسکتا ۔ جو ووٹرس حقیقت میں ملک کے رائے دہندے ہیں ان کے ناموں کو محض شبہات کی بنیاد پر فہرست رائے دہندگان سے حذف کیا گیا ہے اور ان ووٹرس نے اپنے ناموں کی دوبارہ شمولیت کیلئے درخواستیں دائر کی ہیں۔ ایسے لاکھوں افراد ہیں جن کے نام فہرست سے غائب ہیں اور انہوں نے درخواستیں داخل کی ہیں ۔ اس تعلق سے سب سے پہلے کمیشن کو توجہ کرنے کی ضرورت ہے ۔ تمام حقیقی ووٹرس کی شمولیت کے بغیر رائے دہی کا عمل حقیقی معنوں میں مکمل نہیں کہا جاسکے گا ۔ا س کے علاوہ کمیشن کو اپنی غیرجانبداری کا بھی بنگال میں مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے ۔ جو الزامات کمیشن پر لگاتار عائد ہوتے رہتے ہیں ان کا ازالہ کرنے کا کمیشن کے پاس بنگال میں ایک موقع دستیاب ہے ۔
حالیہ وقتوں میں دیکھا گیا ہے کہ فہرست رائے دہندگان سے لاکھوں بلکہ کروڑوں افراد کے نام حذف کردئے گئے ہیں۔ یہ تمام کروڑوں افراد بیرونی باشندے نہیں ہوسکتے ۔ چند ایک افراد کے تعلق سے شبہات ضرور ہوسکتے ہیں لیکن اتنی بڑی تعداد میں ووٹرس کے نام فہرست رائے دہندگان سے حذف کرنے کا کوئی جواز نہیںہوسکتا اور جب ان ووٹرس نے اپنے کچھ دستاویزات پیش کردئے ہیں تو کمیشن کو اس کا جائزہ لئے بغیر کوئی فیصلہ نہیں کرنا چاہئے ۔ اس کے علاوہ کمیشن کو اپنی دستوری ذمہ داری سمجھتے ہوئے انتخابات کو حقیقی معنوں میں آزادانہ اور منصفانہ بنانے اور غیر جانبدارانہ بنانے کیلئے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ۔ اس کے علاوہ بنگال میںانتخابی عمل کو تشدد سے پاک بنانے کیلئے بھی یقینی طور پر اقدامات کئے جانے چاہئیں اور اس کیلئے مرکزی سکیوریٹی دستوں کو بھی متعین کیا جاسکتا ہے ۔ تاہم اس معاملے میں بھی کسی ایک مخصوص سوچ کے غلبہ کے تحت کام نہیں کیا جانا چاہئے اور نہ ہی مخصوص علاقوں کو نشانہ بناتے ہوئے وہاں کسی طرح کے خوف کا ماحول پیدا کرنے کی ضرورت ہے ۔ اصل مسئلہ ساری ریاست کی صورتحال کو پیش نظر رکھتے ہوئے اس کے عین مطابق کسی جانبداری اور ذہنی تحفظ کے بغیر اقدامات کرنے کا ہے ۔ اس جانب الیکشن کمیشن کو اور خاص طور پر چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ جس وقت تک کمیشن غیر جانبداری سے کام نہیں کرے گا اس وقت تک مختلف گوشوں سے سوال اٹھتے رہیں گے ۔
حالیہ عرصہ میں جس طرح سے مغربی بنگال کی حکومت اور الیکشن کمیشن کے مابین اختلافات چلے ہیں اور ایس آئی آر کے مسئلہ پر عدالتی کشاکش سپریم کورٹ میں بھی جاری ہے اس کو دیکھتے ہوئے ضرورت اس بات کی ہے کہ کمیشن ریاستی حکومت کو اعتماد میں لے ۔ آئندہ انتخابات تک ممتابنرجی کی موجودہ حکومت عوام کی منتخبہ اور نمائندہ حکومت ہے اور اس کو نظر انداز کرتے ہوئے یکطرفہ فیصلے نہیں کئے جاسکتے ۔ کمیشن کو بنگال میں حقیقی معنوں میںانتخابی عمل کو غیرجانبدارانہ اور منصفانہ بناتے ہوئے سارے ملک کیلئے ایک مثال قائم کرنے کی ضرورت ہے اور اس پر جو الزامات عائد کئے جاتے ہیں ان کو دور کرنے کا ایک موقع بھی ہے ۔