ملازمتوں سے متعلق چیف منسٹر کے اعلان کا خیرمقدم: جناب زاہد علی خان

   

مسلم نوجوانوں کو ملازمتوں کے حصول کی تیاری کیلئے ایڈیٹر سیاست کا مشورہ

حیدرآباد۔9 ۔مارچ۔(سیاست نیوز) حکومت تلنگانہ کی جانب سے مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات کا فیصلہ خوش آئند ہے اور تشکیل تلنگانہ کے بعد کئے جانے والے اس اعلان کے اعلامیہ کی اجرائی کے ساتھ ہی اقلیتی نوجوانوں بالخصوص مسلمانوں کو ملازمتوں کے حصول کے لئے تیاری کا آغاز کرنا چاہئے ۔ جناب زاہد علی خان ایڈیٹر روزنامہ سیاست نے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی جانب سے ایوان اسمبلی میں کئے گئے اعلان کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ تحریک تلنگانہ کے دوران کے چندر شیکھر راؤ نے سماجی مساوات پر مبنی سنہرے تلنگانہ کا جو وعدہ کیا تھا اس پر عمل آوری کا یہ سنہری موقع انہیں میسر آیا ہے ایسے میں حکومت تلنگانہ کی جانب سے اگر ملازمتوں کی فراہمی میں تمام طبقات کے ساتھ انصاف کیا جاتا ہے تو ایسی صورت میں تلنگانہ ملک بھر میں سماجی مساوات کے ساتھ ترقی کرنے والی مثالی ریاست بن کر ابھرے گی۔ جناب زاہد علی خان نے ریاست تلنگانہ کے تعلیم یافتہ نوجوانوں کو مشورہ دیا کہ وہ نہ صرف گروپ I یا گروپ IIبلکہ دیگر تمام محکمہ جاتی امتحانات کے لئے بھی تیاری کریں اور جو لوگ محفوظ زمرہ میں یعنی BC-E میں شامل ہیں وہ اپنے اسنادات تیار رکھنے کے علاوہ جو لوگ تحفظات کے زمرہ میں نہیں ہیں وہ معاشی طور پر پسماندہ یعنی EWS زمرہ میں اپنے اندراجات کرواتے ہوئے سرٹیفیکیٹ حاصل کرلیں۔ ایڈیٹر سیاست نے کہا کہ تشکیل تلنگانہ کے بعد ریاست کے تمام محکمہ جات میں اتنے بڑے پیمانے پر تقررات کا فیصلہ کوئی معمولی فیصلہ نہیں ہے بلکہ ریاستی حکومت کی جانب سے انتظامیہ کو کارکردو فعال بنانے کی سمت اہم پیشرفت ہے۔ جناب زاہد علی خان نے ریاستی حکومت کی جانب سے فراہم کئے جانے والے اس موقع سے استفادہ حاصل کرنے کا نوجوانوں کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ تحریک تلنگانہ کے دوران علیحدہ ریاست کی تائید و حمایت کے جوازات میں یہ ایک انتہائی اہم جواز تھا اور جن لوگوں اور تنظیموں نے علحدہ ریاست تلنگانہ کی تائید کی تھی وہ سرکاری ملازمتوں میں اقلیتی نوجوانوں کی تعداد میں اضافہ دیکھنے کے خواہش مند تھے۔ اب یہ تعلیم یافتہ نوجوانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس زریں موقع سے استفادہ حاصل کرتے ہوئے ان خوابوں کو شرمندہ تعبیر کریں جو تشکیل تلنگانہ سے قبل دیکھے گئے تھے ۔ ایڈیٹر سیاست نے نوجوانوں کو ملازمتوں کے حصول کے لئے اپنے طور پر محنت اور تیاری پر توجہ دینے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ اتنی بڑی تعداد میں مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات کیلئے سرکاری رہنمائی ان کے لئے بے انتہاء کارکردثابت ہوگی۔م