حیدرآباد ۔ یکم ؍ فبروری (سیاست نیوز) بی آر ایس کے رکن اسمبلی سابق وزیر فینانس ٹی ہریش راؤ نے مرکزی بجٹ پر سخت تنقید کرتے ہوئے مرکزی حکومت سے دریافت کیا کہ کیا ملک کے معنی صرف چند ریاستیں ہیں۔ آج یہاں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی حکومت سال 2025-26ء کا بجٹ سیاسی فائدہ کیلئے استعمال کررہی ہے۔ ملک کی ترقی، معیشت کے استحکام، روزگار کی فراہمی، غربت کے خاتمہ، غریب عوام کی فلاح و بہبود کو مرکزی بجٹ میں مکمل نظرانداز کردیا گیا ہے۔ مرکزی حکومت کا اقدام ملک کے وفاقی نظام کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔ ہریش راؤ نے کہا کہ مرکزی وزیرفینانس نرملاسیتارامن نے اپنے بجٹ تقریر میں گروجاڈا اپاراو کے نظم کا حوالہ دیا مگر تلنگانہ کے عوام کو بجٹ میں انسان تسلیم کرنے سے بھی انکار کردیا۔ بہار میں الیکشن ہونے کی وجہ سے ملک کا تقریباً بجٹ بہار پر لوٹا دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ سال 2024ء میں آندھراپردیش کا بجٹ پیش کیا گیا۔ سال 2025ء میں دہلی اور بہار کیلئے بجٹ پیش کیا گیا ہے ایسا لگتا ہے 2026ء میں اترپردیش اور 2027ء میں گجرات کیلئے بجٹ پیش کیا جائے گا۔ مرکزی بجٹ میں تلنگانہ کے مفادات کو مکمل طور پر نظرانداز کردیا گیا۔ مرکزی بجٹ صرف تین چار ریاستوں کا بجٹ نظر آرہا ہے۔ تلنگانہ سے دو مرکزی وزراء اور 8 بی جے پی کے ارکان پارلیمنٹ ہونے کے باوجود انہوں نے مرکزی حکومت پر کوئی دباؤ نہیں ڈالا۔ تلنگانہ سے بی جے پی کوئی ہمدردی نہ ہونے کا مرکزی بجٹ سے ثبوت مل گیا ہے۔ مرکزی جی ڈی پی کو 5.1 فیصد کرنٹی بیوٹ کرنے والی تلنگانہ ریاست پھر ایک مرتبہ مسترد کردی گئی ہے۔ قبائلی یونیورسٹی کو بجٹ نہیں دیا گیا۔ تلنگانہ کو مناسب بجٹ حاصل کرنے میں ناکام ہوجانے کا چیف منسٹر اے ریونت ریڈی پر الزام عائد کیا۔ مرکزی بجٹ کی پیشگی سے 10 دن قبل ریاستی حکومت نے 40 ہزار کروڑ روپئے کی برائے نام تجاویز روانہ کرتے ہوئے خاموشی اختیار کی گئی۔2