ملک کی معیشت سنگین بحران کا شکار ، ماہرین کا انتباہ

   

اروند سبرامنیم ، سرجیت بھلا ، سنجے بارو کا اظہار تشویش ۔ مودی حکومت سوالات کے کٹھرے میں
حیدرآباد : 24 اگست ( سیاست نیوز) ایک ایسے وقت میں جب حکمراں بی جے پی ملک میں سیاسی طور پر انتہائی مضبوط پوزیشن میں دکھائی دے رہی ہے اور مسلسل انتخابی فتوحات نے وزیراعظم نریندر مودی کے عوامی امیج کو مزید مستحکم کیا ہے ، وہیں ملک کی معیشت کے حوالے سے ایک بالکل مختلف اور تشویشناک تصویر سامنے آرہی ہے ۔ ہندوستان کے تین ایسے نامور معاشی اور سیاسی ماہرین نے جن کا تعلق نہ تو کسی سیاسی اپوزیشن سے ہے ، نہ کانگریس پارٹی سے اور نہ ہی وہ بائیں بازو کے نظریات سے وابستہ ہیں ، جنہوں نے ملک کی موجودہ معاشی صورتحال اور مستقبل کی سمت کے بارے میں غیر معمولی اور شدید انتباہ جاری کئے ہیں ۔ ان تینوں ماہرین کے مشترکہ بیانات نے اس وقت پورے ملک میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے جس کا مرکزی نقطہ نظر یہ ہے کہ بی جے پی انتخابات تو جیت رہی ہے لیکن ملک معیشت کے محاذ پر پچھڑ رہا ہے۔ معیشت پر یہ سنگین سوالات اٹھانے والی شخصیات عالمی سطح پر انتہائی معتبر مانی جاتی ہیں اور ماضی میں سرکاری پالیسیوں اور اہم اداروں کے ساتھ قریبی طور پر منسلک رہی ہیں ۔ ان میں پہلا نام اروند سبرامنیم کا ہے جو 2014ء سے 2018 تک مودی حکومت کے چیف اکنامک ایڈوائزر رہ چے ہیں اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ ( آئی ایم ایف ) سمیت پیٹرسن انسٹی ٹیوٹ جیسے عالمی اداروں میں کام کرنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں ۔ دوسری اہم شخصیت سرجیت بھلا کی ہے جو مارکٹ اصلاحات کے کٹر حامی مانے جاتے ہیں اور جنہیں خود مودی حکومت نے آئی ایم ایف میں ایگزیکٹیو ڈائرکٹر کے طور پر نامزد کر کے بھیجا تھا ۔ تیسرے ماہر سنجے بارو ہیں جو سابق وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کے میڈیا ایڈوائزر اور مشہور کتاب ’ دی ایکسڈنٹل پرائم منسٹر‘ کے مصنف ہیں جن کی تحریروں کا حوالہ ماذتی میں بی جے پی کے حامی اکثر منموہن سنگھ اور نریندر مو دی کی قیادت کا موازانہ کرنے کیلئے دیتے رہے ۔ اب یہی تینوں معتبر آوازی ہندوستانی معیشت کے اندرونی نظام پر سنگین سوالات اٹھارہے ہیں ۔2

اس وقت عوامی اور کاروباری حلقوں میں تشویش کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ہندوستان روپیہ ، ڈالر کے مقابلے میں مسلسل گراوٹ کا شکار کیوں ہورہا ہے اور معاشی اشاریوں میںاس اُتار چڑھاؤ کی وجہ سے مارکٹ کے سرمایہ کاری شدید تناؤ اور تذبذب کا سامنا کررہے ہیں ۔ یہ معاملہ اب صرف ایک روایتی سیاسی تنازعہ نہیں رہا بلکہ ان ماہرین کی جانب سے پیش کیا گیا ایک سنجیدہ معاشی تجزیہ ہے ، جنہوں نے کبھی خود ملک کے مالیاتی پالیسیو ں کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا تھا اور یہی وجہ ہے کہ یہ بحث آج سارے ملک میں گہرائی سے سنی جارہی ہے ۔2