نئی دہلی: حکومت نے آج لوک سبھا میں کہا کہ ملک میں دس کروڑ کسان مویشی پروری سے وابستہ ہیں، جن میں سے 70 فیصد خواتین ہیں، جو انہیں روزگار اور غذائیت فراہم کر رہی ہیں۔ ماہی پروری، حیوانات اور ڈیری کے مرکزی وزیر راجیو رنجن سنگھ عرف للن سنگھ نے وقفہ سوالات کے دوران ایک ضمنی سوال کے جواب میں کہا کہ ملک بھر میں دس کروڑ کسان مویشی پروری سے وابستہ ہیں، جن میں ستر فیصد خواتین ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت کے آنے کے بعد دودھ کی پیداوار اور پروڈکشن میں اضافہ ہوا ہے ۔ دودھ کی پیداوار بڑھانے کا کام نیشنل گوکل مشن کے ذریعے کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2014-15 میں 146.3 ملین میٹرک ٹن دودھ کی پیداوار ہوئی جبکہ 2023-24 میں 293.30 ملین میٹرک ٹن دودھ کی پیداوار ہو گی جو کہ پہلے کے مقابلے میں 63.5 فیصد زیادہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگلے تین برسوں میں دودھ کی پیداوار میں 15 فیصد اضافہ کرنے کا ہدف ہے ۔ اگلے پانچ برسوں میں دودھ کی پیداوار کو 300 ملین میٹرک ٹن تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے ۔ ایک دیگر ضمنی سوال کے جواب میں مسٹر راجیو رنجن سنگھ نے کہا کہ جانوروں کے مصنوعی حمل کے ذریعہ پیدا ہونے والے بچھڑوں میں سے 90 فیصد مادہ ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے دودھ کی پیداوار میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ مصنوعی حمل کیلئے میتری ورکرز کا تقرر کیا گیا ہے جو کسانوں کی دہلیز پر جا کر مصنوعی حمل کا کام انجام دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئی وی ایف ٹیکنالوجی مہنگی ہے اور اس کی قیمت تقریباً بیس ہزار روپے فی جانور ہے ۔ اس کی قیمت کم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مصنوعی حمل کی ذمہ داری ریاستی حکومت پر عائد ہوتی ہے اور ہم منی فراہم کرنے کا کام کرتے ہیں۔
ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک میں ڈیری ڈویلپمنٹ پروگرام تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے ۔