مرکزی حکومت سے سیال مادہ کی تیاری ، قیمت میں اضافہ ، آئندہ چند دنوں میں قلت پر قابو پانے کا امکان
حیدرآباد۔ ملک بھر میں آکسیجن کی قلت اور مرکزی حکومت کی جانب سے آکسیجن کی قلت کو دور کرنے کے لئے اقدامات کے اعلانات کے دوران آکسیجن کی قیمتوں میں زبردست اضافہ ریکارڈ کیا جانے لگا ہے اور کہا جا رہاہے کہ ریاست تلنگانہ میں 12تا20 روپئے فی کیوبک میٹر فروخت کی جانے والی آکسیجن گیاس کی تیاری کا سیال مادہ اب 55تا60 روپئے فی کیوبک میٹر فروخت کیا جا نے لگا ہے لیکن اس قیمت پر کنٹرول کے لئے حکومت کی جانب سے کوئی اقدامات نہ کئے جانے کے سبب جو آکسیجن سلینڈر شہریوں کو اب تک 200 روپئے میں بھر کردیا جاتا تھا وہ اب 1700 روپئے میں بھرا جانے لگا ہے جو کہ کئی گنا اضافہ کا سبب ہے۔گیاس کمپنیوں کو سیال مادہ فراہم کرنے والی کمپنیوں کی جانب سے وصول کی جانے والی اضافی قیمتوں کے سبب گیاس ایجنسیاں سیلنڈرس کی قیمتوں میں اضافہ کرنے پر مجبور ہونے لگی ہیں اور کہا جا رہاہے کہ سیال مادہ سربراہ کرنے والی ایجنسیوں کی جانب سے کئے جانے والے قیمتوں میں اضافہ کے سلسلہ میں کہا جا رہاہے کہ پیداوار میں ہونے والی قلت اور طلب میں اضافہ کے سبب یہ اضافہ ریکارڈ کیا جا رہاہے جبکہ سیال مادہ سربراہ کرنے والی کمپنیوں کا کہنا ہے کہ مرکزی حکومت کی جانب سے کئے جانے والے فیصلہ کے سبب ہی آکسیجن کی تیاری کے سیال مادہ کی قیمت میں اضافہ ہورہا ہے کیونکہ ملک بھر کی کئی ریاستوں میں سیال مادہ کی سربراہی کے اقدامات کئے جار ہے ہیں اور دوسری ریاستوں میں سربراہی کی صورت میں عائد ہونے والے اخراجات تو کمپنی کو وصول کرنے پڑیں گے کیونکہ کمپنی اپنے نقصانات کے ساتھ آکسیجن فروخت نہیں کرسکتی۔ نائس گیاس ایجنسی کے انتظامیہ نے بتایا کہ آکسیجن کی تیاری کے لئے حاصل ہونے والے سیال مادہ کی قلت کے دور ہونے سے قبل قیمتوں میں ہونے والے اضافہ کے سبب ایجنسیوں کو جوابدہ ہونا پڑرہا ہے کیونکہ اب تک اتنی زیادہ قیمتوں میں کوئی سیلنڈرس نہیں بھرے جاتے تھے لیکن اب آکسیجن سیلنڈرس کی قلت کے علاوہ قیمتوں میں اضافہ سے شہریوں کو پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ جناب حبیب عبدالقادر الحامد العیدروس نے بتایا کہ آئندہ چند یوم کے دوران آکسیجن کی قلت پر قابو پائے جانے کا امکان ہے لیکن قیمتوں پر قابو پانے کیلئے حکومت کی جانب سے کیا حکمت عملی تیار کی گئی ہے اس کے متعلق اب تک کوئی واضح اشارے نہیں دیئے جا رہے ہیں جس کی وجہ سے شہریوں کواضافی داموں میں آکسیجن سیلنڈر حاصل کرنے پڑرہے ہیں۔